Loading
امریکا نے روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر سخت معاشی دباؤ بڑھانے کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایک سخت قانون منظور کرلیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس قانون کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارت اور چین سمیت روس سے تیل و گیس خریدنے والے بڑے خریداروں کی مصنوعات پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
امریکی ایوان نمائندگان نے اس ایکٹ کو 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے منظور کیا جس کے بعد بل کو دستخط کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیج دیا گیا ہے۔ سینیٹ اس کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے۔
اس قانون کا بنیادی مقصد روس کی توانائی اور دفاعی آمدنی کو محدود کرکے یوکرین جنگ کے لیے ماسکو کے مالی وسائل پر دباؤ بڑھانا ہے۔
امریکا کا بھارت کو کیا پیغام ہے؟
نئے قانون کے تحت ٹرمپ کو روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر ان کے امریکی درآمدی سامان کے حوالے سے 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
قانون روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں، اعلیٰ روسی حکام اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے ٹینکرز کے نام نہاد ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کو بھی نشانہ بناتا ہے۔
امریکی اقدام کا مقصد ایسے ممالک کو روسی توانائی کی خریداری کم کرنے پر مجبور کرنا ہے جو روس کو تیل اور گیس کی فروخت سے آمدنی فراہم کر رہے ہیں۔
تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ بھارت کی تمام برآمدات پر واقعی 100 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ قانون صدر کو یہ اختیار دیتا ہے، لیکن حتمی شرح، کن مصنوعات پر ٹیرف لگے گا اور اس کا نفاذ کب ہوگا، یہ آنے والے امریکی فیصلوں سے واضح ہوگا۔
اس نئے قانون میں بعض حالات میں امریکی صدر کو قومی مفاد کی بنیاد پر پابندیوں سے استثنا دینے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
امریکی ممکنہ پابندیوں پر بھارت کا ردعمل
امریکی اقدام پر بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی توانائی اور معاشی ضروریات کو نظرانداز نہیں کرے گا۔
بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی قانون کی منظوری کا نوٹس لیا ہے اور اس معاملے میں ہونے والی مزید پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت اپنے 1.4 ارب شہریوں کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے تیل خریدنے کی پالیسی جاری رکھے گا۔
بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ روسی تیل کی خریداری اور اس کے ممکنہ اثرات کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران مختلف امریکی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح پر زیر بحث آتا رہا ہے۔
بھارت نے امریکا کو اس اقدام کے ممکنہ اثرات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی واضح کیے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اپنے تجارتی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا اور اس سلسلے میں حکومت بھارتی صنعت اور تجارتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
بھارت روس سے اتنا تیل کیوں خریدتا ہے؟
روس یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے نتیجے میں بھارتی ریفائنریوں کے لیے رعایتی قیمت پر خام تیل کا اہم ذریعہ بن گیا۔
بھارت دنیا کے بڑے تیل درآمد کنندگان میں شامل ہے اور اس کی معیشت، صنعت اور ٹرانسپورٹ کا بڑا حصہ درآمدی خام تیل پر انحصار کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مالی سال 2026 میں روسی خام تیل بھارت کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 30 فیصد تھا، جس کے باعث روس بھارت کا انتہائی اہم تیل فراہم کنندہ بن چکا ہے۔
تاہم بھارتی ریفائنرز نے حالیہ عرصے میں سپلائی کے ذرائع متنوع بنانے کے لیے امریکا، برازیل، کینیڈا، وینزویلا اور افریقی ممالک سے بھی خریداری بڑھانے کی کوشش کی ہے۔
بھارت پر ممکنہ اثرات
اگر امریکا بھارت پر انتہائی بلند ٹیرف نافذ کرتا ہے تو اس کا پہلا بڑا اثر بھارتی برآمدات پر پڑ سکتا ہے کیونکہ امریکی منڈی بھارتی مصنوعات کے لیے اہم ہے۔
100 فیصد تک اضافی ڈیوٹی بعض بھارتی مصنوعات کو امریکی مارکیٹ میں نمایاں طور پر مہنگا کرسکتی ہے اور برآمد کنندگان کے منافع پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
دوسری جانب روسی تیل کی خریداری اچانک کم کرنے سے بھارت کو متبادل سپلائرز سے زیادہ قیمت پر خام تیل خریدنا پڑ سکتا ہے۔
اس صورت میں بھارتی ریفائنریوں کے اخراجات بڑھنے اور ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ پیدا ہونے کا امکان ہے۔
روس کا ردعمل کیا ہے؟
روس نے امریکی پابندیوں کے نئے پیکیج کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ اگر ٹرمپ نے نئی پابندیوں کے قانون پر دستخط کیے تو اس سے یوکرین میں امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں مزید مشکل ہوسکتی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نئی امریکی پابندیاں روس کے خلاف غیر دوستانہ اقدامات کے سلسلے کا حصہ ہیں اور ان سے پہلے ہی تعطل کا شکار امن مذاکرات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
روس اور بھارت کے درمیان توانائی تجارت کے ساتھ ساتھ ادائیگیوں کا نظام بھی حالیہ برسوں میں تبدیل ہوا ہے۔
روسی بینکنگ حکام نے بتایا کہ دونوں ممالک نے روپے اور روبل میں ادائیگی کا ایسا نظام قائم کرلیا ہے جس کے ذریعے دوطرفہ تجارت کا تقریباً 96 فیصد حصہ انجام دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ماسکو کے خلاف متعدد مالی، تجارتی اور توانائی پابندیاں عائد کی تھیں۔
تاہم بھارت نے مکمل طور پر روسی توانائی سے دستبردار ہونے کے بجائے رعایتی روسی خام تیل خریدنا جاری رکھا جس سے روس بھارت کے بڑے تیل سپلائرز میں شامل ہوگیا۔
امریکا اب براہِ راست روسی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ان ممالک پر بھی معاشی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جو روسی توانائی خریدتے ہیں۔ نئی قانون سازی اسی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل