Loading
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تحت قائم ایران سے متعلق آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں امریکی جنگی جرائم کی ہولناک داستان بیان کی گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے معقول شواہد ملے ہیں جن سے امریکا کے ایران میں جنگی جرائم ثابت ہوجاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بالخصوص امریکا کا رواں سال فروری میں ایران میں ایک گرلز اسکول اور ایک اسپورٹس کمپلیکس پر حملے بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔
مشن کی نئی رپورٹ کے مطابق یہ دونوں حملے 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کی مسلط کی گئی جنگ کے پہلے روز کی گئی فوجی کارروائیوں کے دوران کیے گئے۔
تحقیقات میں خاص طور پر ایرانی شہر میناب میں شاجَرہ طیبہ پرائمری اسکول اور فارس صوبے کے شہر لامرد میں ایک اسپورٹس کمپلیکس کو نشانہ بنانے والے حملوں کا جائزہ لیا گیا۔
پرائمری گرلز اسکول پر ٹام ہاک میزائل حملہ
اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ میناب میں ایک ایسے اسکول پر ٹام ہاک میزائل داغا گیا جو واضح طور پر ایک شہری عمارت کے طور پر شناخت کیا جا سکتا تھا۔
ایرانی حکام کے بقول حملے میں 150 سے زائد افراد شہید ہوئے جن میں تقریباً 120 طلبا، اساتذہ اور اسکول کا عملہ شامل تھا۔ بعض ایرانی ذرائع نے یہ تعداد 168 بتائی ہے۔
فیکٹ فائنڈنگ مشن نے کہا کہ اسے امریکی دعوے کے برعکس اسکول کے فوجی استعمال میں ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج کے پاس ایک ایرانی سینئر فوجی کمانڈر کی اسکول میں موجودگی سے متعلق انٹیلی جنس معلومات تھیں تاہم حملے سے قبل اس معلومات کی مناسب تصدیق نہیں کی گئی۔
مشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکول ایک واضح شہری ہدف تھا اور حملہ آور فریق کو شہریوں کو نقصان پہنچنے کے نمایاں خطرے کا علم ہونے کے باوجود کارروائی کی گئی۔
امریکی حکام نے ماضی میں کہا تھا کہ اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔ امریکی فوج کی ابتدائی اندرونی تحقیقات سے متعلق ذرائع نے بھی بتایا تھا کہ امریکا حملے کا ممکنہ طور پر ذمہ دار تھا۔
تاہم امریکا کا یہ مؤقف تھا کہ اسکول کو ممکنہ طور پر پرانی انٹیلی جنس کی بنیاد پر غلطی سے فوجی تنصیب سمجھا گیا۔ پینٹاگون نے تاحال اپنی تحقیقات کے حتمی نتائج عوام کے سامنے پیش نہیں کیے۔
امریکا کا اسپورٹس کمپلیکس پر حملہ
اقوام متحدہ کے مشن نے ایران کے شہر لامرد میں ہونے والے ایک دوسرے فضائی حملے کا بھی جائزہ لیا۔ جس میں ایسے پریسیژن میزائل استعمال کیے گئے جن سے ٹنگسٹن کے چھروں کا پھیلاؤ ہوا اور اسپورٹس کمپلیکس کے ساتھ رہائشی علاقے کو بھی نقصان پہنچا۔
مشن کی رپورٹ کے مطابق حملے میں 22 شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے جبکہ قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک اسکول کو بھی نقصان پہنچا۔ اسکول حملے کی طرح اسے بھی غیر امتیازی حملہ قرار دیتے ہوئے جنگی جرم قرار دیا گیا۔
اسکول کے برعکس اس حملے کی ذمہ داری امریکا نے قبول نہیں کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ امریکی افواج نے 28 فروری کو لامرد شہر میں کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔
جس سے یہ گمان ظاہر کیا گیا تھا کہ اسپورٹس کمپلیکس پر حملہ اسرائیلی فورسز نے کیا تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی ہے۔ اس پر تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کے مشن نے امریکا اور ایران دونوں پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں فوری طور پر روکیں، متاثرین کو مناسب ازالہ فراہم کریں اور آئندہ ایسی کارروائیوں کی روک تھام یقینی بنائیں۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کی تحقیقات کے لیے یہ آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن 2022 میں قائم کیا تھا جس کی بنگلادیش کی معروف قانون دان سارہ حسین کر رہی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل