Thursday, September 17, 2026
 

آلودہ ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان پہلے نمبر پر؛ صاف ترین ممالک کون سے ہیں؟

 



سوئس ایئر کوالٹی مانیٹرنگ ادارے آئی کیو ایئر کی 2025 کی عالمی رپورٹ میں پاکستان کو دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ ملک قرار دیا گیا ہے جہاں سالانہ اوسط 2.5 پی ایم کی سطح 67.3 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ ہوئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس رپورٹ میں بنگلا دیش 66.1 مائیکروگرام کے ساتھ دوسرے، تاجکستان 57.3 کے ساتھ تیسرے، چاڈ 53.6 کے ساتھ چوتھے اور جمہوری جمہوریہ کانگو 50.2 مائیکروگرام کے ساتھ دنیا کے آلودہ ترین ممالک میں پانچویں نمبر پر رہے۔ اسی طرح بھارت 48.9 مائیکروگرام کے ساتھ چھٹے نمبر ہے جب کہ کویت، یوگنڈا، مصر اور ازبکستان بالترتیب سات سے دسویں نمبر ہیں۔ پھر عراق، نیپال، متحدہ عرب امارات، بحرین اور روانڈا کی باری آتی ہے۔ اس فہرست میں چین 20 ویں جب کہ سعودی عرب 21 اور ایران 22 ویں نمبر پر براجمان ہے۔ افغانستان اس فہرست میں شامل نہیں تھا جبکہ سری لنکا 42، ملائیشیا 60 اور جنوبی کوریا 55ویں نمبر پر رہے۔ پاکستان میں آلودگی کی سطح کتنی رہی؟ پاکستان میں 2025 کے دوران سالانہ اوسط PM2.5 کی سطح 67.3 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی جو عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ سالانہ حد 5 مائیکروگرام سے 13 گنا سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان 2024 میں 73.7 مائیکروگرام کے ساتھ بھی پہلے نمبر پر تھا جبکہ 2025 میں آلودگی کی اوسط سطح کچھ کم ہوکر 67.3 مائیکروگرام ہوئی تاہم ملک بدستور عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر رہا۔ کون سے ممالک نسبتاً صاف رہے؟ رپورٹ کے مطابق دنیا کے صرف 13 ممالک اور خطوں نے 2025 میں عالمی ادارہ صحت کی سالانہ PM2.5 گائیڈ لائن یعنی 5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر یا اس سے کم کی سطح برقرار رکھی۔ ان میں آسٹریلیا، آئس لینڈ، ایسٹونیا، پاناما، گریناڈا، انڈورا، برمودا، بارباڈوس، فرانسیسی پولینیشیا، پورٹو ریکو، امریکی ورجن آئی لینڈز، نیو کیلیڈونیا اور ری یونین شامل ہیں۔ دنیا کے آلودہ ترین شہر بھی ایشیا میں ملکی درجہ بندی کے علاوہ رپورٹ میں شہروں کی صورتحال بھی تشویش ناک سامنے آئی۔ دنیا کے 25 سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں تمام شہر بھارت، پاکستان اور چین میں واقع تھے۔ بھارت کا لونی 112.5 مائیکروگرام PM2.5 کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ چین کے سنکیانگ میں واقع ہوتان 109.6 مائیکروگرام کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھا۔  143 میں سے 130 ممالک ڈبلیو ایچ او معیار سے باہر ایئر کوالٹی مانیٹرنگ ادارے IQAir کے مطابق 2025 میں مجموعی طور پر 143 ممالک، خطوں اور علاقوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے 130 یعنی تقریباً 91 فیصد ڈبلیو ایچ او کی سالانہ PM2.5 گائیڈ لائن پر پورا نہیں اتر سکے۔ صرف 14 فیصد شہر معیار پر پورا اترے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2025 میں 75 ممالک میں PM2.5 کی سالانہ اوسط میں کمی جبکہ 54 ممالک میں اضافہ ہوا۔ لاؤس، کمبوڈیا اور انڈونیشیا میں آلودگی میں نمایاں کمی دیکھی گئی جس کی ایک وجہ زیادہ بارش اور ہواؤں سے جڑی لا نینا موسمی صورتحال بھی بتائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ PM2.5 سے مراد ایسے انتہائی باریک ذرات ہیں جن کا قطر 2.5 مائیکرومیٹر یا اس سے کم ہوتا ہے۔ یہ ذرات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں اسی لیے فضائی آلودگی کی پیمائش میں انھیں صحت کے لیے اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل