Loading
1980 کی دہائی میں ہمارے جو دوست ایک اچھا معیار زندگی رکھتے تھے، اب شادی شدہ اور بچوں کا بوجھ اٹھانے کے بعد اپنا معیار زندگی کھو چکے ہیں کیونکہ خاندانی جائیداد کی تقسیم کے بعد ان کے حصے میں اتنے پیسے بھی نہیں آئے کہ وہ اپنا کوئی چھوٹا سا مکان خرید سکتے۔
یہ صورت حال آج بہت سارے لوگوں کے ساتھ ہے اور ایسے لوگ مہنگائی کے اس دور میں دہرے پریشان ہیں کیونکہ انھیں اپنی ماہانہ تنخواہ سے گھر کا کرایہ بھی نکالنا پڑتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں اگر گھر کا بجٹ بنایا جائے تو ایک عام آدمی کا اس میں مکان کا کرایہ تقریباً 30 ہزار بنتا ہے۔ اسی طرح سے بجلی کا ماہانہ بل تقریباً 25 ہزار، گیس اور پانی کا بل تقریباً آٹھ ہزار، گھر میں منرل واٹر لانے کا خرچہ تقریباً چار ہزار، گھر کا راشن تقریباً 30 ہزار، گوشت وغیرہ تقریباً 15 ہزار، دودھ، دہی، انڈے 20 ہزار، اسکول اور ٹیوشن وین کی فیس تقریباً پندرہ ہزار، جب کہ پٹرول یا کرائے کا خرچہ 15 سے 25 ہزار کم از کم بنتا ہے۔
یوں اگر دیکھا جائے تو یہ رقم اس خاندان کی، جس کے گھر میں چار سے پانچ افراد ہوں، تقریباً دو لاکھ روپے ماہانہ بنتی ہے، جب کہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایم بی اے کی ڈگری رکھنے والا بھی عموماً 60 سے 80 ہزار روپے ماہانہ کی ملازمت رکھتا ہے۔ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ ایک سفید پوش ایسی صورت حال میں کس کرب کی زندگی گزار رہا ہوگا، وہ اپنا ماہانہ خرچ کیسے پورا کرتا ہوگا؟اس صورت حال میں ہمارے حکمرانوں کے دیے ہوئے اضافی درد کا حصہ بہت زیادہ شامل ہے، مثلاً گیس کے بل میں تقریباً چار ہزار اضافی روپے مختلف قسم کے چارجز اور ٹیکس کی مد میں دینے پڑتے ہیں۔
اسی طرح بجلی کا بل ایک عام گھرانے کا جو بمشکل 10 ہزار روپے بنتا ہے، مختلف قسم کے چارجز اور ٹیکس ملا کر 25 ہزار تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح پانی کا ٹینکر پانی کی کمی کی صورت میں ہر دو چار ماہ بعد دلوانا پڑتا ہے، جس پر پانچ ہزار کا خرچہ آتا ہے، پینے کے لیے منرل واٹر، جو گھر میں منگوایا جاتا ہے، ہر ماہ تین ہزار کا پڑتا ہے اور پٹرول پر تو تمام نارمل ٹیکس کے بعد بھی لیوی ٹیکس کے نام پر تقریباً 100 روپے کے قریب ہر لیٹر پر لیا جاتا ہے، جو ایک بائیک والے کو ماہانہ 15 ہزار پڑتا ہے۔
یہ بڑی سنگین صورت حال ہے جو حکمرانوں کی جانب سے عوام پر مسلط ہے۔ مختصر اگر میں اس اضافی ٹیکس و چارجز والی رقم کو ماہانہ کے اعتبار سے ٹوٹل کروں تو ایک سفید پوش کو ہر ماہ تقریباً 40 ہزار روپے اضافی حکومت کو ادا کرنے پڑ رہے ہیں، جو ظلم نہیں، بہت بڑا ظلم ہے۔یہ بھی بات نہایت قابل غور ہے کہ ماضی کی غربت ایک سفید پوش کو اتنا پریشان نہیں کرتی تھی، یعنی دال دلیہ کھا کر اس کا گزارا ہو ہی جاتا تھا، مگر اب مشکل یہ ہے کہ ایک سفید پوش کو آج اپنے موبائل کا ماہانہ دو ہزار کا (فی فرد) اضافی خرچہ بھی برداشت کرنا ہے۔ اسکولوں اور جامعات کی بھاری فیسوں کا خرچہ بھی اٹھانا پڑتا ہے، بجلی وغیرہ کا اضافی بل بھی دینا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج کا سفید پوش اپنے تعلیم کے اور علاج کے خرچے ہی نہیں، کھانے پینے کے اخراجات بھی پورے نہیں کر پا رہا ہے، لہٰذا اس کی بچت بھی نہیں ہو رہی۔ یوں سفید پوش کی بھاری اکثریت اپنی رہائش کے لیے کوئی مکان خریدنے سے بھی قاصر ہے۔ چنانچہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 1980 کے بعد سے کرائے پر رہنے والے خاندانوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اب تو حالیہ چند برسوں سے پٹرول اور بجلی کے بلوں کے علاوہ گیس کے بلوں کے بڑھتے نرخ نے یہ خواب بھی چھین لیا ہے کہ کوئی سفید پوش اپنی بچت کر کے کمیٹی ڈال کے کوئی چھوٹا سا مکان خرید سکے۔
کراچی شہر کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ 1981 میں تقریباً دو لاکھ سے زیادہ خاندان بے گھر تھے، 1990 میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ سے زائد، 1998 میں 4 لاکھ 75 ہزار سے زائد، 2000 میں تقریباً پانچ لاکھ اور 2023 میں تقریباً 11 لاکھ خاندان کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں۔ دوسری طرف صرف حکمران ہی نہیں، بڑے طبقات میں دولت مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ ان بڑے طبقات میں پارلیمنٹ اور عدلیہ جیسے سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں، جن کی تنخواہوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ ہو رہا ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ بھی ہے کہ کراچی جیسے شہر میں بے شمار پروجیکٹ چل رہے ہیں، جس میں بلڈرز جنگلوں میں بھی تعمیرات کر کے رہائشی یونٹ فروخت کر رہے ہیں، مگر اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سفید پوش طبقے میں بے گھر خاندانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
مقامِ حیرت ہے کہ یہ شہر پورے ملک کو’’پال‘‘ رہا ہے، فٹ پاتھوں پر مختلف فلاحی تنظیمیں ملک کے دیگر علاقوں سے آئے ہوئے غربا اور مزدوروں کو، بھیک مانگنے والوں کو مفت میں بریانی اور گوشت کا کھانا فراہم کر رہی ہیں، جب کہ اسی شہر کے سفید پوش گھر میں آٹے اور دال کا راشن بھی پورے ماہ کا نہیں رکھتے۔افسوس کا مقام ہے کہ اس شہر کے سفید پوش کے لیے کوئی فلاحی تنظیم بھی نظر نہیں آتی، کوئی ایسی تنظیم نہیں جو کسی خاندان کے بچوں کی مکمل نہ سہی، آدھی فیس ہی اپنے ذمے لے کر مدد کر سکے، نہ ہی کوئی ایسا مالدار، کوئی سخی ہے جو مکانات آدھے کرائے پر اس شہر کے سفید پوشوں کو فراہم کر سکے۔
خیر، اس وقت حکمرانوں نے عوام کا خون کچھ اس طرح سے چوسنا شروع کیا ہے کہ ایک گریجویٹ اور ماسٹر پاس سفید پوش اپنی ملازمت کے بعد پارٹ ٹائم ’’فوڈ پانڈا‘‘ اور ’’’بائیکیا‘‘ چلاتا ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی بھی کھلا نہیں سکتا۔ حکمرانوں کی اس بے حس پالیسی کے سبب آج ایک غریب کی غربت بھی پریشان کن غربت بن چکی ہے، جب کہ تاریخ میں ایک غریب کی غربت محض غربت ہوتی تھی، پریشان کن غربت نہیں ہوتی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل