Loading
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سعودی سلامتی پر سمجھوتا کرنا ممکن نہیں، مملکت اور حرمین شریفین کے دفاع کیلیے پاکستان ہرحد پار کرنے کو تیارہے۔
عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان ہر قسم کی قربانی دینے اور کسی جارحیت کی صورت میں بھرپور دفاع کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔
انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے حوالے سے پاکستانی عزم غیر متزلزل ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان ہر سطح پر تعاون جاری رکھے گا اور کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
ترجمان پاک فوج نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، سیاسی اور عسکری تعلقات کو نا قابلِ شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی سکیورٹی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ دو طرفہ دفاعی تعلقات اور معاہدوں کی بنیاد پر دونوں ممالک باہمی اعتماد کے ساتھ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کیلیے کوشاں ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ایک غیر ملکی میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں مکہ معاہدے کے تناظر میں کسی ممکنہ حملے کے ردعمل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ دفاعی حکمت عملی کے طریقہ کار کو کبھی بھی عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ ممالک باہمی مشاورت سے لائحہ عمل طے کریں گے، کیونکہ سکیورٹی اور فوجی کارروائیوں کی تفصیلات ہمیشہ خفیہ رکھی جاتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے کئی معاہدے موجود ہیں جن کے تحت سکیورٹی معاملات پر مشاورت جاری رہتی ہے، تاہم بروقت فیصلے اور جوابی کارروائی کا اختیار متعلقہ تینوں ممالک کے پاس ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا غیر متزلزل مؤقف نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ خطے میں ایک ذمہ دار قوت کے طور پر پاکستان کے کردار کو بھی واضح کرتا ہے۔
دفاعی معاہدوں کی رازداری برقرار رکھنا اسٹریٹجک خود مختاری کے اصولوں کے عین مطابق ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل