Friday, September 18, 2026
 

ایسی سرگرمی جس سے بنیادی حقوق متاثر ہوں آئین کے خلاف تصور ہوگی، پی ٹی آئی لانگ مارچ کیخلاف تحریری فیصلہ

 



اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ایسی سرگرمی جس سے بنیادی حقوق متاثر ہوں وہ آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے 14 ستمبر کو فیصلہ سنایا تھا آج اس کا تفصیلی و تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ہے۔ تحریری فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف وزری آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا، سرکاری عہدیدار کی وجہ سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے تو اسے حلف کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، آئین اور قانون کی خلاف ورزی پر ذمہ دار سرکاری افراد کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ فیصلے میں پی ٹی آئی کی گزشتہ یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ قابل افسوس ہے کہ یقین دہانیاں اور عدالتی ہدایات نظر انداز کی جاتی رہیں، سپریم کورٹ میں دی گئی یقین دہانی کی بانی چیئرمین نے خود خلاف ورزی کی، نومبر 2024ء کے احتجاج میں ہائیکورٹ نے بھی فیصلہ جاری کیا مگر عمل نہ ہوا، عدالت کے سامنے موجود کیس قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں، سیاسی جماعت کی عدالتی احکامات اور یقین دہائیوں کو نظرانداز کرنے کی تاریخ موجود ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل