Loading
برطانیہ کے ساحلی علاقے کرومر کے قریب سمندر کی تہہ میں غوطہ خوروں نے ایک تاریخی معمہ حل کرتے ہوئے انسانوں کے بنے 25 پراسرار ڈھانچے دریافت کر لیے ہیں۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا ماننا ہے کہ 700 برس قدیم یہ حیرت انگیز باقیات ’شپڈن‘ نامی اس قرون وسطیٰ کے قصبے سے تعلق رکھتی ہیں۔
برطانوی سب ایکوا کلب کے غوطہ خوروں نے گرمیوں کے موسم میں صاف آسمان اور غیر معمولی طور پر پرسکون پانی کے نادر حالات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔اس موافق ماحول کی وجہ سے سمندر کی تہہ میں موجود ریت اور چاک ہٹ گئی، جس سے وہ پوشیدہ تاریخی ڈھانچے عیاں ہو گئے جو شاید کبھی منظرِ عام پر نہ آتے۔
مقامی تاریخ دان جیمز منڈھم کی مدد سے غوطہ خوروں نے ان تمام ڈھانچوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ان کی تصاویر اتاری ہیں اور جدید اسپیشل فوگرافی کے ذریعے ان کے ابتدائی تھری ڈی ماڈلز بھی تیار کر لیے ہیں۔
دریافت ہونے والی ان باقیات میں فلِنٹ سے بنی دیواریں، پانی کے اندر تعمیراتی کام کے لیے استعمال ہونے والے چیمبرز کے نچلے حصے اور تراشے ہوئے پتھر شامل ہیں۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صدیوں تک سمندر کی تہہ میں رہنے کے باوجود ان میں سے کئی ڈھانچے اب بھی آٹھ سے دس تہوں تک بلند حالت میں اپنی جگہ پر موجود ہیں۔
اس وقت محققین اس بات کی گہرائی سے تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا یہ پتھر کے چیمبرز 14 ویں صدی میں سمندر کے بڑھتے ہوئے پانی کو روکنے کی کسی ناکام کوشش کا حصہ تھے یا پھر ان کا تعلق 1390 میں منظور کیے جانے والے کسی پرانے پیئر کی تعمیر سے ہے۔
تاہم، مقامی تاریخی پراجیکٹ سے وابستہ ماہرین کا یہ کہنا تھا کہ یہ تمام امور فی الحال تحقیقی نظریات کی حد تک ہیں اور ان کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل