Wednesday, September 23, 2026
 

ہرمز میں جہازوں کیلئے نئی پابندی، ایران نے خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ مقرر کردیا

 



ایران نے آبنائے ہرمز سے اپنی مقررہ اجازت یا قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایسے جہازوں پر ان کے سامان کی مجموعی مالیت کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی کے مطابق کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ قانون کی بعض شقوں کی منظوری دی ہے۔ ان شقوں کے تحت خلاف ورزی کرنے والے جہازوں سے جرمانہ وصول کرنے کے ساتھ انہیں عارضی طور پر تحویل میں بھی لیا جاسکے گا۔ قشقاوی کے مطابق جہاز کو اس وقت تک روکے رکھنے کی اجازت ہوگی جب تک مقررہ جرمانہ ادا نہیں کردیا جاتا۔ نئی شقوں میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے ایران کے طے کردہ قواعد پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مزید قانونی اقدامات بھی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 21 ستمبر کو صرف دو بڑے تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ تنازع سے قبل روزانہ اوسطاً تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز اس اہم بحری راستے سے گزرتے تھے۔ جریمۀ عبور غیرمجاز از هرمز: ۲۰ درصد ارزش بار کشتی متخلف سخنگوی کمیسیون امنیت ملی مجلس: بر اساس مواد قانونی جدید، متخلفان در عبور از تنگۀ هرمز علاوه بر پرداخت جریمه‌ای معادل ۲۰ درصد از ارزش محموله، با توقیف موقت شناور تا زمان پرداخت جریمه نیز مواجه خواهند شد. — خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) September 22, 2026 آبنائے ہرمز خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ ایران کی جانب سے نئے ضوابط اور جرمانوں کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب اس راستے کی سکیورٹی اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پہلے ہی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل