Loading
پاکستانی ٹک ٹاکر اور اداکارہ جنت مرزا کی اے آئی سے تیار کردہ ایک جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد معاملہ خواتین کی ڈیجیٹل پرائیویسی اور چہروں کے غیر مجاز استعمال تک جا پہنچا ہے۔ ویڈیو میں جنت مرزا کو ایک نامعلوم شخص کے ساتھ دکھایا گیا، جس کے بعد انہوں نے اس مواد پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
جنت مرزا نے انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے واضح کیا کہ انہیں ویڈیو میں کوئی مزاح نظر نہیں آیا۔ ان کے مطابق کسی شخص کے چہرے کو اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرکے اس نوعیت کی ویڈیوز تیار کرنا انتہائی تشویشناک عمل ہے اور اس کے اثرات صرف کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں رہتے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ان کا چہرہ استعمال کیا جارہا ہے، لیکن کل یہی معاملہ کسی بھی دوسری لڑکی کے ساتھ پیش آسکتا ہے، جس سے اس کی عزت اور وقار متاثر ہوسکتا ہے۔ جنت مرزا نے کہا کہ وہ خود سوشل میڈیا پر بہت فعال ہیں، اس کے باوجود ویڈیو دیکھ کر انہیں شدید بے چینی محسوس ہوئی۔
ٹک ٹاکر نے خاص طور پر ان خواتین کی طرف بھی توجہ دلائی جو سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق ایسی خواتین کی تصاویر بھی ان کی لاعلمی میں استعمال ہوسکتی ہیں اور ممکن ہے انہیں اس غلط استعمال کا علم ہی نہ ہو۔
اس معاملے پر پنجاب اسمبلی کی رکن حنا پرویز بٹ نے بھی آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک اہم ٹیکنالوجی بن چکی ہے، لیکن اس کا غلط استعمال کسی کی عزت، وقار یا پرائیویسی کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
حنا پرویز بٹ نے خواتین کی تصاویر اور چہروں کو بغیر اجازت استعمال کیے جانے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے ایسے واقعات کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے متاثرین پر زور دیا کہ وہ ایسے مواد کو معمولی یا بے ضرر آن لائن معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں بلکہ مناسب طریقے سے رپورٹ کریں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ متاثرہ افراد کو ایسے مواد کا اسکرین شاٹ یا اصل لنک محفوظ کرنا چاہیے، تاہم اسے مزید پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق معاملہ متعلقہ سائبر کرائم اداروں تک پہنچانا ضروری ہے، جبکہ پنجاب میں متاثرہ خواتین پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی سے بھی رہنمائی حاصل کرسکتی ہیں۔
View this post on Instagram
جنت مرزا کے معاملے نے ایک بار پھر اس خدشے کو نمایاں کردیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی کی شناخت اور چہرے کو بغیر اجازت استعمال کرکے گمراہ کن مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔ ایسے واقعات نے ڈیجیٹل پرائیویسی، رضامندی اور آن لائن تحفظ کے حوالے سے نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل