Loading
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے دوران جنگ میں عارضی وقفہ نہیں کرے گا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ لاوروف نے کہا کہ روس مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم مذاکرات کے دوران کسی بھی مرحلے پر اپنی فوجی کارروائیاں روکنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام عائد کیا کہ یورپی ممالک جنگ میں وقفہ چاہتے ہیں تاکہ یوکرین کو دوبارہ مسلح کرنے اور اس کے فوجی ذخائر بھرنے کے لیے وقت مل سکے۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس طویل مدتی اور پائیدار امن کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے تاہم روس کے نزدیک محض جنگ بندی کے بجائے ایسا معاہدہ ضروری ہے جو تنازع کا مستقل خاتمہ کرے۔
روسی وزیر خارجہ کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے نیویارک میں ملاقات کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔
مارکو روبیو اور سرگئی لاوروف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر تقریباً ایک گھنٹے تک ملاقات کی جس میں روس یوکرین جنگ اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر گفتگو ہوئی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ یوکرین جنگ ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ حملوں میں شدت، شہری ہلاکتوں اور علاقائی کشیدگی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے فوری، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی پر زور دیا۔
واضح رہے کہ روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا اور تاحال یہ جنگ جاری ہے جس میں دونوں جانب سے ہلاکتوں اور مالی نقصان کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں اور تاحال جنگ بندی کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل