Loading
ایتھوپیا کے شمالی علاقے ٹگرائے میں کشیدگی ایک بار پھر مسلح تصادم میں تبدیل ہوگئی ہے، جہاں ٹگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ سے وابستہ فورسز نے متعدد اہم علاقوں میں کارروائیاں کی ہیں اور میکیلے، شائر اور اکسوم کے ایئرپورٹس پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ صورتحال کے باعث ایتھوپین ایئرلائنز نے ان تینوں شہروں کے لیے پروازیں معطل کردی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹگرائے کی فورسز اور وفاقی حکومت کی فوج کے درمیان پڑوسی علاقے عفار کے شہر ابالا اور ایربتی میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔ ایک غیرملکی سیکیورٹی ذریعے نے ابالا پر ٹگرائے فورسز کے کنٹرول کی تصدیق کی، تاہم بعض دیگر علاقوں پر قبضے اور سرکاری فوج کی پسپائی سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ٹگرائے کی علاقائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی وفاقی فورسز کی جانب سے طیاروں، ڈرونز اور توپ خانے سے مبینہ شدید بمباری کے جواب میں کی گئی۔
اس تازہ کشیدگی کا ایک اہم اثر فضائی رابطوں پر پڑا ہے۔ ایتھوپین ایئرلائنز نے سیکیورٹی صورتحال کے باعث میکیلے، شائر اور اکسوم کے لیے اپنی پروازیں روک دی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق میکیلے کے ایئرپورٹ پر وفاقی پولیس کی محدود نفری تعینات تھی، جس کے بارے میں بعد کی صورتحال واضح نہیں ہوسکی۔
ٹگرائے میں موجودہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب باغی فورسز نے حال ہی میں ایتھوپیا کے مختلف علاقوں میں سرگرم متعدد مسلح گروہوں کے ساتھ ایک نیا اتحاد قائم کیا ہے۔ اس اتحاد میں امہارا کے فانو گروپ سمیت دیگر مسلح تنظیمیں بھی شامل ہیں، جن میں سے بعض ماضی میں ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں۔ اتحاد کا اعلان وفاقی حکومت کے خلاف مشترکہ کارروائی کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
ٹگرائے اور ایتھوپیا کی وفاقی حکومت کے درمیان 2020 سے 2022 تک ہونے والی جنگ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا تھا۔ 2022 کے پریٹوریا امن معاہدے کے بعد لڑائی رکی، تاہم دونوں جانب اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور حالیہ مہینوں میں جھڑپوں اور ڈرون حملوں کے واقعات دوبارہ سامنے آئے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل