Loading
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں مزید اسلامی ممالک کی شمولیت کا امکان موجود ہے تاہم کسی بھی ملک کو شامل کرنے کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مشترکہ صوابدید سے ہوگا۔ معاہدہ فی الحال انہی تین ممالک کے درمیان ہے۔
صحافی کے سوال پر ایران کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ ایران خطے کا ایک انتہائی اہم ملک ہے اور دفاعی نوعیت کے اس معاہدے میں کسی ملک کے خلاف کوئی ارادہ شامل نہیں۔
ان کے مطابق جو بھی ملک معاہدے میں شریک ہوگا اس کا مقصد خطے میں امن کے قیام میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ معاہدے کے تحت سیکریٹریٹ قائم کیا جانا ہے جو ممکنہ طور پر اکتوبر کے اوائل میں فعال ہوجائے گا جبکہ معاہدے کے انتظامی اور بیوروکریٹک ڈھانچے کو مکمل طور پر فعال ہونے میں دو سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متعدد اسلامی ممالک مکہ معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں تاہم کسی ملک کی رکنیت کے بارے میں فیصلہ تینوں موجودہ رکن ممالک باہمی مشاورت سے کریں گے۔
امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ملاقاتیں ہونا اچھی بات ہے کیونکہ جب تعلقات خراب ہوں تو ملاقاتیں نہیں ہوتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رابطے اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے تو بہتری اور کسی حل کی امید برقرار رہتی ہے، جبکہ رابطے منقطع ہونے کی صورت میں کسی حل کی امید کم ہوجاتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل