Friday, September 25, 2026
 

شہریار میمن نے ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد کا عہدہ چھوڑنے کیلئے درخواست جمع کرادی

 



ای او سی کوآرڈینیٹر شہریار میمن نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ حیدرآباد کا عہدہ چھوڑنے کے لیے سیکریٹری سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن (ایس اینڈ جی اے ڈی) کو درخواست دے دی۔ شہریار میمن کو 21 ستمبر کو ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ حیدرآباد تعینات کیا گیا تھا تاہم چند روز بعد ہی انہوں نے عہدے سے سبکدوش ہونے کی درخواست کردی۔ سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی کو لکھے گئے خط میں شہریار میمن نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری ملازمت کے دوران انہوں نے اپنے فرائض دیانت داری، محنت اور انتظامی قواعد کے مطابق انجام دیے، تاہم ان کی تعیناتیوں اور پیشہ ورانہ اسناد سے متعلق بعض ذاتی نوعیت کے ریمارکس نے انہیں شدید ذہنی اذیت اور جذباتی تکلیف پہنچائی۔ انہوں نے خط میں کہا کہ ان کی اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں کو میرٹ اور محنت کے بجائے ’’ذاتی عنایت‘‘ قرار دیے جانے سے انہیں تکلیف ہوئی۔ شہریار میمن کے مطابق عوامی خدمت اعتماد اور اخلاقی ساکھ پر قائم ہوتی ہے اور موجودہ صورتحال میں ڈی جی ہیلتھ کے اہم منصب پر مؤثر انداز میں کام جاری رکھنا پیشہ ورانہ طور پر مناسب نہیں۔  شہریار میمن نے عہدے کی عزت اور اپنی عزتِ نفس برقرار رکھنے کے لیے ڈی جی ہیلتھ سروسز سندھ حیدرآباد کا چارج چھوڑنے کی درخواست کرتے ہوئے معاملے پر فوری انتظامی کارروائی کی اپیل کی ہے۔ درخواست کی نقول سیکریٹری صحت سندھ اور وزیر صحت سندھ کے پرسنل سیکریٹری کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ نے شہریار میمن کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کی درخواست کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی ہیلتھ کا عہدہ خالصتاً تکنیکی اور طبی قیادت کا منصب ہے، جو قواعد اور میرٹ کے تحت گریڈ 20 کے سینئر اور مستحق ڈاکٹرز کو ملنا چاہیے۔ ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کے مخصوص انتظامی اور پیشہ ورانہ عہدوں پر بیوروکریٹس کی تعیناتی میرٹ کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ شہریار میمن کی عہدے سے سبکدوشی کی درخواست فوری طور پر منظور کی جائے اور آئندہ کسی غیر متعلقہ بیوروکریٹ کو ڈاکٹرز کے انتظامی و پیشہ ورانہ عہدوں پر تعینات نہ کیا جائے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ نے خبردار کیا کہ مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو احتجاج اور دھرنے کا اعلان کیا جائے گا، جس کے بعد احتجاج کا دائرہ کار پورے صوبے تک وسیع کردیا جائے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل