Friday, September 25, 2026
 

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد 169 تک جا پہنچی

 



ولیکا اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسپتال سے منسلک ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ کر 169 تک جا پہنچی ہے۔ متاثرین کی رجسٹریشن، مالی معاونت اور دیگر معاملات کے لیے اسپتال میں اب تک پانچ میڈیکل بورڈز تشکیل دیے جاچکے ہیں، جبکہ 142 متاثرین میڈیکل بورڈ میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں اور خاندانوں کو مالی معاونت کی فراہمی کے لیے جاری اقدامات کے تحت اب تک 109 متاثرین کے بینک اکاؤنٹس بھی کھولے جاچکے ہیں جبکہ انڈومنٹ فنڈ کے تحت 76 متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت کی فراہمی شروع کردی گئی ہے اور ان خاندانوں کو دو ماہ کی رقم منتقل کی جاچکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید 34 متاثرہ خاندان تاحال مالی معاونت کے منتظر ہیں۔ ان خاندانوں کو رقم کی منتقلی میں دستاویزات نامکمل ہونے اور بے نظیر کارڈ سے متعلق مسائل رکاوٹ بن رہے ہیں، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا عمل مکمل نہیں ہوسکا۔ ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل سامنے آرہا ہے۔ ابتدائی طور پر سرکاری سطح پر متاثرہ بچوں کی تعداد 78 بتائی گئی تھی۔ بعد ازاں مزید بچوں کی اسکریننگ اور ٹیسٹ کے نتیجے میں متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ رپورٹ ہوا۔ ایچ آئی وی سے اب تک نو متاثرہ بچوں کی اموات کی تصدیق کی جاچکی ہے۔ تاہم، اسپتال کے اپنے ریکارڈ میں صرف دو اموات درج ہیں، جس کے باعث اموات کے اعداد و شمار میں بھی واضح فرق موجود ہے۔ جاں بحق ہونے والے متاثرین کے خاندانوں کو تاحال انڈومنٹ فنڈ سے کسی قسم کی مالی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق جاں بحق متاثرین کے خاندانوں کو بھی مالی معاونت فراہم کرنے کا معاملہ آئندہ اجلاس میں زیر غور آنے کا امکان ہے جس میں متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی رقم اور طریقہ کار سے متعلق فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ معاملے کی تحقیقات کے لیے مختلف سطحوں پر انکوائریاں بھی شروع کی گئیں جبکہ متاثرہ بچوں کے علاج، ادویات، ٹیسٹ، تعلیم اور دیگر ضروریات کے لیے انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا۔تاہم، اس معاملے میں انتظامی سطح پر بھی کارروائیاں کی جاچکی ہیں، متعدد ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے جبکہ ڈاکٹرز، ڈسپنسر اور نرسنگ اسٹاف کے خلاف معطلی سمیت مختلف اقدامات کیے جاچکے ہیں۔ حکام کی جانب سے متاثرہ بچوں کو علاج، ادویات اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ البتہ، تازہ اعداد و شمار کے مطابق 169 بچوں کے متاثر ہونے اور نو اموات کی تصدیق کے بعد معاملہ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ متاثرین کی رجسٹریشن، مالی معاونت، اموات کے ریکارڈ میں فرق اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے معاملات تاحال توجہ طلب ہیں ماہرین کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو بروقت مالی معاونت کی فراہمی، تمام متاثرین کی مکمل رجسٹریشن اور اموات کے اعداد و شمار کو ایک ہی ریکارڈ میں لانا ضروری ہے تاکہ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو اعلان کردہ امداد کی فراہمی میں مزید تاخیر نہ ہو۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل