Loading
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے سپہ سالاروں کا ایک اہم اجلاس ریاض میں ہوا جس میں سرزمین مقدس کی سیکیورٹی اور مکہٰ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
الجزیرہ کے مطابق اجلاس میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو شریک ہوئے۔
اس ملاقات کی تفصیل آنا ابھی باقی ہے تاہم الجزیرہ میں ایک تصویر جاری کی گئی جس میں پاک، سعودیہ اور ترک آرمی چیفس ایک ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور مقام مصدقہ طور پر ریاض ہے۔
ترک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تینوں ممالک کے عسکری سربراہان نے اس اجلاس میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت ملاقات کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کی یہ تازہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کر دیے ہیں اور مکہ مکرمہ کی جانب بھی میزائل داغا تھا۔
گزشتہ روز نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، پاکستانی نائب وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے مکہٰ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پیش رفت اور فوجی سربراہان کا ہنگامی اجلاس بلانے کے انتظامات پر بات کی تھی۔
یاد رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہٰ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع، دفاعی تعاون اور باہمی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل