Loading
ایک خفیہ امریکی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سعودی عرب نے جوہری ہتھیار بنانے کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا ہے۔
یہ جائزہ امریکی کانگریس کو فراہم کی گئی خفیہ دستاویزات میں شامل بتایا گیا ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری تعاون کا معاہدہ موجود ہے۔ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو امریکی ٹیکنالوجی کے ذریعے جوہری ری ایکٹرز بنانے اور یورینیم افزودگی کی اجازت سے متعلق راستہ دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن سعودی جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی حمایت نہیں کرتا اور نہ کرے گا۔ سعودی وزیرِ توانائی بھی پروگرام کو پُرامن اور شہری نوعیت کا قرار دے چکے ہیں۔
تاہم معاہدے میں یورینیم افزودگی اور استعمال شدہ جوہری ایندھن کی دوبارہ پروسیسنگ سے متعلق صلاحیتیں شامل ہونے کے باعث جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین میں تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ یہ دونوں ٹیکنالوجیز ہتھیار بنانے کی صلاحیت کیلیے بھی استعمال ہوسکتی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل