Loading
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ حکمران ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کی بات بننے نہیں دیتے۔
سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ سیاسی ذمہ داری جنید اکبر کی اور حکومتی ذمہ داری میری ہے، تاہم وہ عمران خان کے حکم پر تحریک چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 4 اکتوبر کو مارچ کے لیے تیاری مکمل ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کی آمدنی 64 ارب سے بڑھا کر 150 ارب روپے تک پہنچائی ہے ، صوبائی ریونیو کو 200 ارب روپے تک لے جائیں گے۔ پشاور میں ترقیاتی کام اور پانی کی سطح بلند کرنے پر کام جاری ہے، ایک ہزار بستروں کا بے نظیر اسپتال بھی بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملاکنڈ میں بھی ایک ہزار بستروں کا اسپتال بنارہے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کے منصوبوں میں پراجیکٹ ڈائریکٹرز کی تقرری میں کوئی پسند ناپسند نہیں کی ۔ عالمی اداروں کے پی ڈیز کی تقرری میں ہر قسم کا دباؤ مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ اے ڈی پی اور عالمی بینک کے 60 ارب روپے کے منصوبے ہیں۔ اگر کسی نے 7 سے 10 ارب روپے لیے ہوئے ہیں تو وہ ہضم نہیں کرپارہا۔ سیکیورٹی کے حالات دیکھنے والے دھمکیاں دے رہے ہیں، میں نے ان کے کام پر پانی پھیر دیا ہے، یہ سال امن، ترقی اور خوشحالی کا ہوگا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ فضول میں جھگڑے کیے جارہے ہیں۔ پاک افغان بارڈر کی بندش سے اس سال 7 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ سالانہ 10 ارب روپے آمدن متوقع ہوتی ہے۔ وہاں سے آنے والے لوگوں پر پابندی کے باوجود دراندازی ہورہی ہے، افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہمارے حق میں ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گڈ اور بیڈ کی تفریق ختم کرنی چاہیے اور عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔ بدامنی پھیلانے والوں کا بلاامتیاز خاتمہ پولیس کرے۔ ہم نے صوبائی ایکشن پلان بنا رکھا ہے اور حکام سے شیئر بھی کیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ نیشنل جرگہ بنا کر بات کی جائے، ان کے پاس ہمارے ساتھ بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم 9 ماہ سے ہر ادارے سے رجوع کررہے ہیں لیکن شنوائی نہیں ہورہی، اسی لیے مجبوراً 27 ستمبر کی کال دی۔ 18 افراد کی ہفتہ وار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے عدالتی احکامات ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہورہا۔ مرکزی حکمران ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کی بات بننے نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ مارچ میں ابھی 7 دن ہیں، اس دوران یہ بات کرلیں۔ ہمیں جنگلی اور دہشتگرد کہا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا بیان مجھے ٹی ٹی پی کی بی ٹیم قرار دیتا ہے، ان کا بیان پری پلان ہے۔ انہوں نے اتنی تیاری اس لیے کی ہے کہ عوام میں ان کے خلاف نفرت ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم 4 اکتوبر کو نکلیں گے اور واپسی حقیقی آزادی پر ہی ہوگی۔ ہم مسلح جتھہ نہیں، سیاسی لوگ ہیں۔ مذاکرات سے ہم نے کبھی انکار نہیں کیا، مولانا ساتھ ہوں تو ویلکم کرتے ہیں۔ 27 ستمبر کی تاریخ پر محمود اچکزئی سے بات کی تھی اور ہماری تیاری مکمل ہے، مارچ میں تاخیر حکمت عملی کے تحت کی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ سول سیکرٹریٹ اور دیگر اداروں میں خوف اور افواہ جس نے پھیلائی، اس پر کارروائی ہوگی۔ میں اسی مسجد میں گیا اور نماز جمعہ پڑھی۔ ریڈ زون میں کنٹینر لے کر آئے اور پھر ہٹا دیے گئے۔ ہم نے 4 اکتوبر کے مارچ کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل ہمارے کام میں مداخلت کی جارہی ہے۔ شکیل خان کے معاملے میں ڈپٹی کمشنر سے زبردستی ایف آئی آر لکھوائی گئی۔ سرکاری ملازمین بے لگام لوگوں کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں۔ اے سی کوہاٹ نے گریز کی پالیسی اپنائی تو میں نے اس کی ستائش کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کے ساتھ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ 11 ارب روپے کے جہاز کی خریداری اچھی گورننس ہے؟ ہمیں ایسی گورننس نہیں آتی۔ ملکی قرضہ 43 سے 97 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمیں ہر صورت مارچ کرنا ہے اور تیاری مکمل ہے، مس ایڈونچر ہوا تو 4 اکتوبر سے پہلے بھی نکل سکتے ہیں۔ ملک میں ایک بندے کی پالیسی چلتی ہے جس کے نمائندے محسن نقوی ہیں۔ میرے لیے حکومت معنی نہیں رکھتی، میں عمران خان کا سپاہی ہوں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کرسی میرے اور میرے مقصد کے درمیان آئی تو اسے لات ماروں گا۔ بہادر شاہ ظفر نہیں، ٹیپو سلطان بننا چاہتا ہوں۔ گورنر راج لگا تو عوامی ری ایکشن بے مثال ہوگا۔ مجھے یہ افورڈ نہیں کرپائیں گے، گورنر راج ہو یا نااہلی، دونوں صورتوں میں۔
انہوں نے کہا کہ اگر میں وزیراعلیٰ نہ رہا تو متبادل کا فیصلہ عمران خان کرے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل