Loading
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا، پورے خطے میں امن اور خوشحالی کا قیام ممکن نہیں۔
اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے 27ویں وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے محض بات چیت کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ای سی او ممالک کے مابین تجارت کا حجم موجودہ علاقائی تجارت کا محض 8 فیصد ہے، جسے بڑھانا مشترکہ ہدف ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 50 کروڑ آبادی پر مشتمل اس خطے کی ترقی کے لیے اجتماعی کوششیں درکار ہیں۔ پاکستان خطے میں امن اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قوانین کا پابند ہے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور خطے کی بدلتی سیکیورٹی صورتحال پر پاکستان کو گہری تشویش لاحق ہے۔
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے جوڑنے والے کوریڈور منصوبوں کی رفتار بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی خطے کی زرعی اور آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، جس کے لیے پائیدار توانائی اور موسمیاتی مزاحمت والے بنیادی ڈھانچے پر تعاون کو یقینی بنانا ہوگا۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے لیے ایک گیٹ وے کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، تاہم اس کے لیے ای سی او کے آزاد تجارتی علاقے کو ڈیجیٹل اور فعال بنانا ضروری ہے۔ افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال علاقائی استحکام کے لیے مسلسل چیلنج ہے، جس کے تدارک کے بغیر کوئی بھی اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے طالبان حکومت کے ساتھ دوطرفہ ٹرانزٹ تجارت سمیت دیگر تعمیری روابط کو فروغ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ازبکستان، افغانستان اور پاکستان ریلوے منصوبے پر دستخط پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ طالبان حکومت سے پاکستان کی واحد توقع اپنے جائز سکیورٹی خدشات کا مستقل حل ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل