Loading
شہر قائد کے علاقے منگھوپیر گرین سٹی میں گھر کے اندر ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے روشم خان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے اہلخانہ اور علاقہ مکینوں کی جانب سے دیئے جانے والا دھرنا ختم کر دیا گیا۔
روشم خان کے قتل کے خلاف دھرنا 20 دن جاری رہا جس میں مختلف سماجی و سیاسی شخصیات کی جانب سے بھی شرکت کی گئی اور ان کی جانب سے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی گئی۔
روشم خان کے قاتلوں کی گرفتاری کے بعد دیئے جانے والے دھرنے میں اعلان کیا گیا کہ 16 سالہ روشم خان کی نماز جنازہ بعد نماز عصر آج بروز اتوار رمضان گوٹھ منگھوپیر میں ادا کیا جائے گی۔
واضح رہے کہ روشم خان کو 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی گھر کے اندر گھسنے والے ڈاکوؤں نے ڈکیتی کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنا کر قتل کیا تھا جس میں کچھ ڈاکو پولیس کی جعلی وردی میں بھی ملبوس تھے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل