Saturday, September 26, 2026
 

انسانیت کا مستقبل اور طاقت کا امتحان

 



دنیا آج جس مقام پر کھڑی ہے، وہاں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنی طاقت ہے، کتنی دولت ہے یا ہماری ٹیکنالوجی کتنی ترقی کر چکی ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس طاقت کو استعمال کیسے کر رہے ہیں اور اس کے نتائج کس کے حصے میں آ رہے ہیں۔ جنگ معاشی عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور عالمی سیاسی کشمکش کے درمیان انسانیت اپنے مستقبل کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں آج کے فیصلے آنے والی کئی نسلوں کی سمت متعین کریں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 22 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے خطاب میں اسی بنیادی سوال کو دنیا کے سامنے رکھا۔ ان کی تقریر محض عالمی حالات کا جائزہ نہیں تھی بلکہ طاقت، انسانیت اور مستقبل کے درمیان تعلق پر ایک گہری گفتگو تھی۔ ان کے مطابق دنیا کی دراڑیں وسیع ہوتی جا رہی ہیں، اختلافات گہری خلیجوں میں بدل رہے ہیں اور موجودہ عالمی بحران دراصل طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کی مختلف شکلیں ہیں۔ گوتریس نے دنیا میں طاقت کی تین بڑی تبدیلیوں کی نشاندہی کی۔ پہلی تبدیلی یہ ہے کہ دنیا میں نئے اقتصادی، سیاسی اور تکنیکی مراکز طاقت حاصل کر رہے ہیں۔ دوسری یہ کہ طاقت کا ایک اہم حصہ حکومتوں سے نکل کر بڑی کارپوریشنوں اور بااثر افراد تک منتقل ہو رہا ہے۔ تیسری اور شاید سب سے زیادہ تشویش ناک تبدیلی یہ ہے کہ بعض فیصلوں میں طاقت انسانوں سے مشینوں خصوصاً مصنوعی ذہانت کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ عالمی نظام پرانے اصولوں کے ساتھ مستقبل کا مقابلہ کرنے کے بجائے نئے حالات کے مطابق خود کو تبدیل کرے۔ آج دنیا کو ایسی عالمی سیاست کی ضرورت ہے جو تقسیم کے بجائے تعاون کو فروغ دے۔ مختلف طاقتوں کے درمیان مقابلہ اپنی جگہ مگر ایسے مسائل جن کا تعلق پوری انسانیت سے ہے، ان کا حل کسی ایک ملک یا گروہ کے پاس نہیں۔ گوتریس نے اسی لیے ایک ایسے کثیرقطبی مگر باہم مربوط عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیا جس میں ممالک بین الاقوامی قانون، مشترکہ اصولوں اور باہمی تعاون کے ذریعے آگے بڑھیں۔ دنیا اگر مختلف مخالف بلاکس میں تقسیم ہوگئی تو ہر بحران مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس باہمی انحصار کو تسلیم کرکے تعاون کا راستہ اختیار کیا جائے تو اختلافات کے باوجود مشترکہ مسائل پر پیشرفت ممکن ہے۔اس خطاب میں جنگ کو طاقت کے پہلے بڑے امتحان کے طور پر پیش کیا گیا۔ مشرق وسطیٰ، یوکرین، سوڈان اور میانمار سمیت مختلف خطوں میں جاری تنازعات نے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر واضح کر دی ہے کہ جب طاقت سفارتکاری اور قانون سے آگے نکل جائے تو سب سے زیادہ قیمت عام شہری ادا کرتے ہیں۔ جنگ کے فیصلے عموماً طاقت کے مراکز میں ہوتے ہیں لیکن ان کے نتائج گھروں، اسکولوں، اسپتالوں اور پناہ گاہوں میں نظر آتے ہیں۔ غزہ کے حوالے سے گوتریس نے عالمی عدالت انصاف کے احکامات کی پابندی پر زور دیا اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع پر تشویش ظاہر کی۔ اسی طرح انھوں نے یوکرین پر روس کے مکمل حملے کو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان معاملات پر ان کا بنیادی مؤقف یہی تھا کہ طاقت کو قانون کے تابع ہونا چاہیے، اگر بین الاقوامی قانون کا اطلاق طاقتور اور کمزور کے لیے مختلف ہو جائے تو عالمی نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اسی سلسلے میں سلامتی کونسل کی اصلاح کا سوال بھی اہم ہے۔ گوتریس نے اس امر کی نشاندہی کی کہ 21ویں صدی کی سلامتی کونسل میں افریقہ کی مستقل نمائندگی نہ ہونا، ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ عالمی طاقت کا نقشہ کئی دہائیاں پہلے کے نقشے سے مختلف ہے، اس لیے عالمی اداروں میں بھی موجودہ حقیقتوں کی نمائندگی ضروری ہے۔ دنیا کا دوسرا بڑا امتحان عدم مساوات ہے۔ آج عالمی سطح پر دولت کی مقدار بہت زیادہ ہے مگر اس دولت کی تقسیم ایسی نہیں کہ ہر انسان بنیادی ضروریات سے مستفید ہو سکے۔ خوراک، صاف پانی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات اب بھی اربوں انسانوں کے لیے مکمل طور پر دستیاب نہیں۔ اس صورت حال کو صرف اقتصادی مسئلہ سمجھنا کافی نہیں۔ یہ مواقع، وسائل اور اختیار کی تقسیم کا مسئلہ بھی ہے۔ گوتریس نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، ترقی پذیر ممالک کے قرضوں میں ریلیف، کثیر ملکی ترقیاتی بینکوں کی مضبوطی اور خصوصی مالیاتی وسائل تک زیادہ منصفانہ رسائی پر زور دیا۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ اگر دنیا میں دولت بڑھ رہی ہے تو اس کا فائدہ بھی وسیع تر انسانیت تک پہنچنا چاہیے۔ صنفی مساوات کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے ایک اہم پیش رفت بھی سامنے آئی۔ گوتریس نے بتایا کہ پہلی مرتبہ اقوام متحدہ میں اعلیٰ قیادت ہیڈکوارٹرز اور پیشہ ورانہ عملے میں مکمل صنفی برابری حاصل ہوئی ہے۔ ادارہ جاتی تبدیلی صرف خواہش سے نہیں بلکہ واضح پالیسی اور عملی فیصلوں سے آتی ہے۔ تیسرا بڑا امتحان موسمیاتی تبدیلی ہے۔ شاید یہ وہ بحران ہے جس کا مکمل اثر آج محسوس نہ بھی ہو تو آنے والی نسلیں اسے زیادہ شدت سے محسوس کریں گی۔ موسمیاتی تبدیلی دراصل نسلوں کے درمیان انصاف کا مسئلہ بھی ہے۔ جن لوگوں کا عالمی آلودگی میں حصہ نسبتاً کم ہے وہ کئی مرتبہ موسمیاتی تباہ کاریوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، سمندر کی سطح میں اضافہ اور خوراک کے مسائل دنیا کے کمزور طبقات کے لیے حقیقی خطرات بن چکے ہیں۔ گوتریس نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ فوسل فیولز سے منتقلی کے لیے ایسے اقدامات کریں جو 1.5 ڈگری سیلسیس کے عالمی ہدف کے مطابق ہوں اور ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے زیادہ مالی معاونت فراہم کی جائے۔ چوتھا اور تیزی سے ابھرتا ہوا امتحان مصنوعی ذہانت ہے۔ انسان نے ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جو معلومات کا تجزیہ، زبان کی تخلیق، فیصلوں میں معاونت اور متعدد پیچیدہ کام غیرمعمولی رفتار سے انجام دے سکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس طاقت کے لیے جواب دہی کا نظام کہاں ہے۔ گوتریس نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک نہایت اہم اصول پیش کیا کہ خطرہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ جوابدہی کے بغیر ٹیکنالوجی ہے، اگر چند ادارے ڈیٹا الگورتھم اور کمپیوٹنگ کی بے پناہ طاقت پر قابض ہو جائیں اور ان کے فیصلوں کا موثر احتساب نہ ہو تو یہ طاقت عدم مساوات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ خاص طور پر جنگی میدان میں مصنوعی ذہانت کا استعمال انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ گوتریس نے واضح کیا کہ زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں کے حوالے نہیں کیے جانے چاہئیں اور خودکار قاتل ہتھیاروں کے لیے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ صرف ٹیکنالوجی کا سوال نہیں بلکہ انسانی اخلاقیات کی بنیادی حد کا سوال ہے۔ امن، ترقی اور انسانی حقوق کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا، اگر کسی سماج میں امن ہو مگر انسان کو عزت، تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق حاصل نہ ہوں تو اسے مکمل امن نہیں کہا جا سکتا۔ اسی طرح اگر اقتصادی ترقی ہو مگر اس کے ثمرات چند لوگوں تک محدود رہیں تو یہ پائیدار ترقی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ دنیا کو ایک ایسے فورم کی ضرورت ہے جہاں طاقتور اور کمزور ممالک کم ازکم اصولی سطح پر ایک ہی میز پر بیٹھ سکیں۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت اپنی جگہ لیکن عالمی مسائل کے حل کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت ختم نہیں ہوئی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، جنگ، عالمی معیشت اور مصنوعی ذہانت جیسے مسائل نے اس ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ گوتریس کی تقریر کا سب سے اہم پہلو شاید یہی ہے کہ انھوں نے مستقبل کو محض ٹیکنالوجی کا نام نہیں سمجھا۔ مستقبل دراصل انسانی فیصلوں کا نتیجہ ہوگا۔ ہم آج جنگ کے بارے میں جو فیصلہ کرتے ہیں وہ کل کے امن کو متاثر کرے گا۔ ہم آج ماحول کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں، وہ آنے والی نسلوں کی زندگی متعین کرے گا۔ ہم آج مصنوعی ذہانت کے لیے جو قوانین بناتے ہیں، وہ کل انسان اور مشین کے تعلق کی حدود طے کریں گے۔ آخرکار انسانیت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ہم اپنی طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے ایٹمی توانائی، مصنوعی ذہانت، جدید مواصلات اور بے مثال سائنسی ترقی حاصل کر لی ہے مگر حقیقی کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ طاقت انسان کو انسان سے قریب کرے، دور نہ کرے۔ دنیا کو ایسی طاقت کی ضرورت ہے جو دوسروں کو شکست دینے کے بجائے مستقبل تعمیر کرے۔ ایسی ترقی کی ضرورت ہے جس میں کمزور بھی شریک ہو۔ ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جو انسان کی خدمت کرے، انسان کی جگہ نہ لے۔ ایسے قانون کی ضرورت ہے جو طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے اصول طے کرے۔ مستقبل ابھی لکھا نہیں گیا۔ اسے آج کے فیصلے لکھ رہے ہیں، اگر دنیا نے تعاون، قانون، مساوات، انسانی وقار اور ذمے دار ٹیکنالوجی کا راستہ اختیار کیا تو آنے والی نسلیں ایک زیادہ محفوظ اور منصفانہ دنیا حاصل کر سکتی ہیں لیکن اگر طاقت احتساب سے آزاد ہوگئی تو ترقی کے باوجود انسانیت اپنے بنیادی مقصد سے دور ہوسکتی ہے۔ اسی لیے 81ویں جنرل اسمبلی میں انتونیو گوتریس کا پیغام صرف ریاستوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک سوال بن کر سامنے آیا ہے، کیا ہم طاقت کے ذریعے دنیا پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں یا طاقت کو استعمال کرکے ایسی دنیا بنانا چاہتے ہیں جو سب کے لیے رہنے کے قابل ہو۔ ہمارے مستقبل کا فیصلہ اسی سوال کے جواب میں چھپا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل