Saturday, September 26, 2026
 

اے آئی: ابھی سے آپے سے باہر

 



بہاولپور سے آنے والی یہ خبر ناقابل یقین لگی۔ دوبارہ تفصیل سے پڑھا تو حیرت اور خوف نے دبوچ لیا۔ حیرانی یہ کہ والدین کا اکلوتا بیٹا کس آسانی سے اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ والد سے چھٹکارا پانا چاہیے۔ خوف اس بات کا کہ اس نے آس پاس کسی سے مشورہ کرنے کے بجائے اے آئی کو اپنا مشورہ داں اور رازداں بنایا اور اے آئی نے اسے جھٹ سے ’’مدد‘‘ فراہم کردی۔ گیارہویں جماعت کے اس طالبعلم نے کرائم ڈرامے دیکھ کر گھر میں خود ہی کیمیکلز تجربے کا سوچا اور دو جگہوں سے آن لائن کیمیکلز منگوائے۔ اپنے والد کو زہر دینے کی پہلی کوشش ناکام ہوئی تو بھی اس نے کسی انسان سے مشورہ کرنے یا خوفزدہ ہونے کے بجائے مصنوعی ذہانت (AI) کا سہارا لیا۔ اس نے چیٹ بوٹ سے پوچھا کہ کون سا کیمیکل ایسا ہے جو انسان کی جان لے لے اور کسی ٹیسٹ میں بھی نہ آئے۔ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا باضابطہ رپورٹ ہونے والا پہلا واقعہ ہے جہاں ایک نوجوان نے جرم کی منصوبہ بندی کے لیے براہِ راست مصنوعی ذہانت کو اپنا رہنما بنایا۔ یہ خبر اور اے آئی پر اندھے بھروسے کا یہ رویہ اس بھیانک حقیقت کا اشارہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی ہمارے گھروں اور بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کی نفسیات میں کتنی خاموشی سے داخل ہو چکی ہے۔ مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ الگورتھم غلط ہاتھوں میں پڑ گئے تو یہ ’’ایک ارب انسانوں کی ہلاکت‘‘ کا باعث بن سکتے ہیں! جی… بل گیٹس کے مطابق انسانی تاریخ میں ایسا کوئی ہتھیار تیار نہیں ہوا جو بدقماش اور بدنیت افراد اور جدید AI کے ملاپ سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہو۔ دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی کے سکیورٹی اور اخلاقی بریک ڈاؤن کے واقعات میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں اس خوفناک انکشاف نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے کہ اوپن اے آئی کے ایک خودکار سسٹم نے آسٹریلیا کے قومی صحت کے محکمے کی ویب سائٹ پر سائبر حملہ کر کے اسے ہیک کر لیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ کمپنی نے کئی ماہ تک آسٹریلوی حکومت کو اس کی خبر تک نہ ہونے دی۔ ایک اور بڑی اے آئی کمپنی اے آئی کے مطابق یمن کے حوثی جنگجوؤں نے اس کے جدید ترین ماڈل ’’کلاڈ‘‘ (Claude) کو بیلسٹک میزائلوں کے گائیڈنس اور نیوی گیشن سسٹمز تیار کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ایسا نہیں کہ ہمارا خطہ یعنی جنوبی ایشیاء اور پاکستان ایسے واقعات اور اثرات سے محفوظ ہیں بلکہ اس خطے کی صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ ہمارا خطہ سیاسی عدم استحکام، شدید معاشی تفاوت اور تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں مصنوعی ذہانت کا بے لگام استعمال ایک بارود کے ڈھیر جیسا ہے۔ حالیہ سالوں میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں الیکشن اور سیاسی مہمات کے دوران طرح طرح سے لیڈروں کی جعلی آڈیوز اور ڈیپ فیک (Deepfake) ویڈیوز بنا کر عوام کو گمراہ کیا گیا اور سیاسی انتشار پھیلایا گیا۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کے بچے اور بچیاں اپنے کلاس فیلوز کی عام تصاویر کو AI سے بگاڑ کر سائبر بدمعاشی یعنی Bullying اور بلیک میلنگ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کی دفاعی فضائی برتری کی کوششوں پر AI کے اثرات تو اور بھی خوفناک ہیں۔ بھارت اور پاکستان ایٹمی طاقتیں ہیں جن کے درمیان فیصلے کا وقت محض چند منٹ کا ہے۔ جب دفاعی نظاموں میں بغیر انسان کی مداخلت کے فیصلوں کا اختیار مشینوں اور AI کے حوالے کیا جائے گا تو الگورتھم کی ایک چھوٹی سی غلطی یا غلط فہمی (Hallucination) پوری قوم کو ایٹمی جہنم میں دھکیل سکتی ہے۔ یہ اندیشہ مفروضہ نہیں بلکہ حال ہی کا ایک حقیقی واقعہ ہے۔ حال ہی میں امریکی فوجی رپورٹس میں AI نے ایک غلط حساب لگا کر رپورٹ تیار کر دی تھی کہ چین تائیوان پر حملہ کرنے والا ہے، اس بنیاد پر امریکی افواج ردِعمل دینے ہی والی تھیں کہ آخری لمحے میں ’’انسانوں‘‘ نے ڈیٹا چیک کر کے غلطی کو بروقت پکڑا اور اس ممکنہ بھیانک تباہی کو روکا۔ ذرا سوچیے، اگر یہی غلطی جنوبی ایشیاء کی کسی سرحد پر ہو جائے تو فیصلہ ساز انسانوں کے پاس ’’اس‘‘ آخری لمحے چیک کرنے کا وقت بھی نہیں ہو گا۔ معاملہ صرف جنگوں یا جرائم تک محدود نہیں بلکہ بات چلتے چلتے اب انسان کی مجموعی سوچ، فکر اور ملازمتوں تک جا پہنچی ہے۔ بل گیٹس نے اسی ہفتے اپنے ایک جامع مضمون میں پیشین گوئی کی ہے کہ AI کی وجہ سے ملازمتوں کے بازار میں ایسا زلزلہ آئے گا جس سے نمٹنے کے لیے ریاستوں کو کچھ مخصوص ملازمتیں صرف ’’انسانوں کے لیے مختص‘‘ (Human-Reserved) قرار دینا پڑیں گی۔ اس ٹیکنالوجی نے آیندہ نسل انسانی سے سوچنے، سمجھنے اور غور وفکر کی صلاحیت چھیننا شروع کر دی ہے۔ اسکول اور یونیورسٹی کے طلبہ اب بالعموم کسی کتاب کا مطالعہ، ریسرچ میں سر کھپا کر پیپر یا مضمون لکھنے کی زحمت نہیں اٹھاتے۔ جو بھی اسائنمنٹ ملتی ہے، وہ ایک کلک پر AI سے لکھوا کر پیش کر دی جاتی ہے۔ اس عمل کو نفسیات دان ’’کوگنیٹو آف لوڈنگ‘‘ (Cognitive Offloading) کا نام دیتے ہیں یعنی اپنے دماغ کا بوجھ مشین پر ڈال دینا۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ انسان کا اپنا دماغ زنگ آلودگی کا شکار ہو رہا ہے۔ معاشی میدان میں جنو بی ایشیا کی معیشت اور ایکسپورٹس کا ایک بڑا حصہ کال سینٹرز، آئی ٹی آؤٹ سورسنگ اور جونیئر ملازمتوں پر منحصر ہے جو اب دھڑادھڑ ختم ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف ان ٹیک کمپنیوں کو ایک گھمبیر مسئلہ ہلکان کررہا ہے ، ان طاقتور کمپیوٹرز اور ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے اربوں گیلن پانی اور بجلی کی بے پناہ سپلائی درکار ہوتی ہے، جو امریکا جیسے ملک میں موجود توانائی، ذرائع اور ماحول پر اضافی بوجھ ثابت ہو رہا ہے۔ یہ معاملہ ٹیک کمپنیوں اور حکومت کی جانب سے پروپیگنڈا کہہ کر ڈسمس کرنے کے باوجود اب ایک سلگتا ہوا الیکشن قضیہ بن چکا ہے۔حیرت اور افسوس یہ ہے کہ اس سارے طوفان کے باوجود دنیا کی قیادت گہری نیند سو رہی ہے۔ جہاں اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین اور اینتھروپک کے ڈاریو اموڈائی نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش ہو کر عالمی سکیورٹی فریم ورک کی اپیل کی ہے، وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خدشات کو محض ایک ’’ڈھونگ‘‘ اور عالمی سازش قرار دے کر کسی بھی پابندی سے انکار کر دیا ہے۔ نیویارک میں ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی رواں ہفتے ملاقات میں بھی اس ٹیکنالوجی کو لگام لگانے دینے پر کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ دونوں بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی اندھی دوڑ میں ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورتحال دوہری مصیبت کا سبب ہے۔ ہمارے ہاں نہ تو سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی موجود ہے اور نہ ہی ہمارے تعلیمی نظام اور والدین میں اتنی آگہی کہ وہ اپنے بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں۔ جب تک ہم اسکولوں میں بچوں کو ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال، صحیح اور غلط کی تمیز اور انٹرنیٹ کے خطرات سے آگاہ نہیں کریں گے، اس وقت تک بہاولپور جیسے واقعات بار بار دہرائے جاتے رہیں گے۔ دوسری جانب یہ سفاک سچ کہ وہ دن دور نہیں جب بل گیٹس کی بات سچ ثابت ہو گی کہ AI ایک بہترین خادم ہو سکتی ہے لیکن اگر اسے بے لگام چھوڑ دیا جائے تو یہ ایک انتہائی ظالم اور ہلاک خیز آقا ثابت ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل