Loading
کالم تحریر کرتے ہوئے یہ سوچا تھاکہ یہ لکھ دوں کہ جب آپ اسے پڑھ رہے ہوں تو شاید پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پشاور سے شروع ہوچکا ہوگا لیکن پھر اچانک یہ خبر آگئی کہ مارچ ملتوی کردیا گیا ہے۔یعنی چار اکتوبر کے بعد کچھ سوچا جائے گا۔
لیکن جن آہنی ہاتھوں سے حکومت نے ان لوگوں کو احتجاج کے’’ نتائج ‘‘ سے آگاہ کیا، وہ ایک لحاظ سے جمہوری حکومت کا شیوہ نہیں ہے تاہم یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ حکومت کا طریقہ کامیاب رہا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ان کو روکا نہیں جاتا تو یقینا اسلام آباد ایک نئی تاریخ رقم کرتا۔ اس طرز حکومت سے کچھ ایسا سمجھ میں آ رہا ہے کہ اس وقت وفاق اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں۔
جب عمران خان کو سیاست کے میدان میں میں چھوڑا گیا تھا تو پی ڈی ایم نے خلا کو پُر کیا اور خان کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ اب حالات قدرے مختلف ہوچکے ہیں۔ لگتا ہے کہ آج محسن نقوی صاحب کو میدان میں اتارا گیا، وہ اب وقت کے ساتھ واضح ہو کر سامنے آ رہے ہیں ۔
دوسری طرف نئے صوبوں کا شوشہ اس لیے بھی چھوڑا گیا کہ موجودہ حکومت کو کمزور دکھایا جائے کیونکہ یہ موضوع پارلیمان میں زیربحث نہیں آیا، تو یقینا پھر پارلیمان یا حکومت کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں رہی۔ ماضی کی یاد آرہی ہے، جب اسکندر مرزا کی یہاں حکومت تھی۔ جنرل ایوب نے پہلے ان سے آئین معطل کروایا، ملک میں مارشل لا لگوایا اور پھر دو ہفتوں کے اندر خود ہی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن کر بیٹھ گئے۔
آج کی پارلیمان سے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی، جس میں مولانا فضل الرحمن بھی شامل تھے۔ پھر ستائیسویں ترمیم کروائی گئی، جس میں مولانا صاحب شامل نہ تھے اور جب وہ اٹھائیسویں ترمیم کی طرف بڑھے تو پیپلز پارٹی نے اسٹینڈ لیا۔
مولانا فضل الرحمن بانی پی ٹی آئی کے اتحادی بن گئے اور محمود اچکزئی نے ٹراٹسکی کی طرح مسلسل ’’انقلاب‘‘ یا ’’تحریک جب تک جاری رہے گی‘‘ کا نعرہ جاری رکھا، جب تک یہ حکومت اختتام کو نہیں پہنچتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب بیٹھے ہیں۔
تو پھر خاتمہ کس حکومت کا ہو رہا ہے؟ بات یہ ہے کہ زباں سے نکلی، تو بہت دور تلک جائے گی، یا پھر ایسا ہے کہ حکومتی اتحاد پھر ایک صفحے پر آ جائے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جمہوری سیاسی جماعتوں، جیسا کہ پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل (ن)، نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اتحاد کیا کیونکہ دونوں کی مجبوری تھی۔
وہ اس لیے کہ خان احتجاج اور جارحیت کی مضبوط قوت بن گئے۔ ان کے ساتھ وہ کارندے تھے جو عدلیہ سے لے کر اداروں تک رسائی رکھتے تھے، جو جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے تعینات کردہ تھے۔ یہ تصادم اسٹیبلشمنٹ کے اندر تھا۔
موجود حکومتی اتحاد برسراقتدار آیا تو پہلے چھبیسویں ترمیم متعارف کروائی گئی۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کا بینچ بنانے کے اختیارات اور سوموٹو لینے کا اختیار بنچ کے تین سینیئر ججوں کے حوالے کیے گئے، پھر ستائیسویں ترمیم پاس ہوئی جسکے تحت آئینی عدالت بنا کر آئین کی تشریح کیاختیارات اس کے حوالے کر دیئے گئے۔
اس طرح پارلیمان کے اختیارات بڑھ گئے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ پارلیمان کو چلا کون رہا ہے؟ کیونکہ یہ جمہوری دور بھی اسی طرح ہائبرڈ ہے، جس طرح خان صاحب کا دور تھا۔ اس طرح کے حکومتی اتحاد مشکل سے دو یا تین سال تک ہی چل پاتے ہیں۔
پھر چاہے آپ آئین میں ترامیم کرالیں یا کوئی قانون پاس کرالیں۔ جنرل ایوب صدر بھی تھے اور فیلڈ مارشل بھی لیکن جب حالات تبدیل ہوئے تو جنرل یحییٰ نے آئین کو معطل کیا، سسٹم کو رول بیک کیا اور مارشل لا لگا دیا۔
جنرل ایوب نے اقتدار سول قیادت نہیں بلکہ ملٹری کے سپرد کیا۔ جب ملک ٹوٹا تو تب بھی یحییٰ صاحب جانے کے لیے راضی نہ تھے، مگر حالات نے ان سے اقتدار چھین لیا۔ شیرباز مزاری اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ غلطیاں در غلطیاں بھٹو سے کرواتے رہے۔ تحریک بھی چلی، اتنے بڑے عوامی لیڈر کو آرام سے راستے سے ہٹا دیا جنرل ضیاء الحق نے۔
ملک کے اندر جو اس وقت اقتدار کی رسہ کشی اور انتشار پھیلا ہوا ہے، وہ کبھی سنبھل نہیں پائے گا، جب تک شفاف انتخابات نہ ہوں اور چہرے تبدیل کیے جائیں۔ نومبر میں انتخابات میں ٹرمپ صاحب دونوں ایوانوں میں اپنے اتحادی دوستوں کو ہروائیں گے، بلکہ ان کا مواخذہ بھی ہو سکتا ہے۔ اکتوبر کے آخر میں نیتن یاہو کو بھی انتخابات کا سامنا ہے۔
دنیا تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر ہے۔ ہمارے اندرونی اور بیرونی حالات خراب ہیں، سرحدوں کے حالات بھی ناپائیدار ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب سب نے ایک ہو کر چلنا تھا، مگر ایسا ہو نہیں سکا اور نہ ہی ایسا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
اس منظرنامے میں ایک نیا اتحاد بنتا نظر آ رہا ہے۔ تمام سیاست دان ایک پیج پر آ جائیں گے یا تو سسٹم جائے گا یا پھر سسٹم ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ بھی چانس ہے کہ آئین کو ایک بار پھر Abeyance میں ڈال دیا جائے ۔ چاروں صوبوں کے اندر مختلف بیانیے ہیں۔ یہ ایک پلیٹ فارم پر بھی نہیں کہ آئین کو تحفظ دے سکیں۔ لیکن کیا ہو سکتا ہے؟ حالات چاہے کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، لیکن ایسا ہونا بھی ممکن نہیں کہ آئین کو Abeyance میں ڈال دیا جائے۔ ایسا کام ہی کیوں کیا جائے؟
ہمارا نظام پسماندہ ہے۔ ہمارے ملک میں نہ ہی آمریت ہے اور نہ ہی جمہوریت! جب آمریت رائج ہوتی ہے تو سول تحریک اس کا خاتمہ کرتی ہے اور جب جمہوریت ہوتی ہے تو معذور اور آرٹیکل 58(2)(b) کی محتاج ہوتی ہے یا پھر ہائبرڈ جمہوریت، جس کے خلاف سازشیں شروع ہو جاتی ہیں اور آمریت ایک Ghost کی طرح اس کا پیچھا کرتی رہتی ہے اور وقت اپنی رفتار سے نکلتا جاتا ہے۔ وہ اپنی عادت نہیں چھوڑتے اور وہ اپنی روایتیں نہیں چھوڑتے۔
جب جمہوریت کے ادوار میں کام صرف اشرافیہ کے ہوتے ہیں تو وہ عوام کو کیا ہی کچھ دینگے اور سیاستدان اتنے اچھے درباری ہیں کہ جمہوریت پروان کیسے چڑھے؟ بس جاگیرداری، پیری مریدی، قبائلی سردار اور وڈیرہ شاہی چلتی رہے۔
اسکول بچوں سے محروم رہے اور بچے تعلیم سے۔ شفاف پانی پینے کے لیے میسر نہ ہو۔ بس نظام ہو اپنی پسند کا، اقربا پروری ہو، کرپشن کا راج ہو، تو کیسے ممکن ہے کہ اس ملک کی شرحِ نمو میں اضافہ ہو؟ اگر شرحِ نمو میں اضافہ نہیں ہوتا تو قرضوں کا حجم بڑھتا چلا جائے گا۔ بیرونی قرضہ جات اتارنے کے لیے ہمیں قرضے ہی لینے پڑیں گے۔ ہم سے این ایف سی لے لیے گئے، لوگوں سے ویلفیئر کے مواقع چھینے گئے۔
یہ ہے وہ شیطانی چکر، Vicious Circle، جس کا گھیرا اب تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ہم آج کے بعد ایک نئے سیاسی ماحول میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہاں افراد کے مفادات اہم نہیں، اداروں کے مفادات اہم ہیں۔ فرد آتے اور جاتے رہتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل