Loading
میں نے جنگ کو صرف کتابوں میں نہیں پڑھا، میدانِ جنگ میں دیکھا ہے۔ عراق میں بمباری، افغانستان میں تباہی اور جنگ کے بعد بکھرتی ہوئی زندگی نے ایک حقیقت بہت پہلے سمجھا دی تھی: جنگ شروع کرنا آسان ہو سکتا ہے مگر اسے ختم کرنا اور امن قائم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔
آج دنیا پھر طاقت، تصادم اور محاذ آرائی کے دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے سامنے بھی ایک بنیادی سوال ہے: ہم بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں تماشائی ہیں، فریق ہیں یا ثالث؟
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے معمولی ملک نہیں رہنے دیتی۔ افغانستان، ایران ہمارا شمال مغربی ہمسایہ ہے، سعودی عرب ہمارے قریبی دوست اور دفاعی شراکت داروں میں ہے، چین ہمارا انتہائی شمالی ہمسایہ اور اسٹریٹجک پارٹنر ہے اور امریکا عالمی سیاست اور معیشت کی ایک اہم طاقت۔
یہی تعلقات پاکستان کے لیے چیلنج بھی ہیں اور موقع بھی۔ حالیہ ایران، امریکا تنازع میں پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے اور مفاہمت کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ جون میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سامنے آئی، جسے پاکستان نے ایک سفارتی پل کے طور پر پیش کیا لیکن پل بنانا اور اس پر ٹریفک بحال رکھنا دو الگ باتیں ہیں۔
24 ستمبر کو نیویارک میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات میں اسی مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطے پر زور دیا گیا۔ ایرانی صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ ثالثی صرف پیغام پہنچانے کا نام نہیں؛ اعتماد برقرار رکھنے کا نام ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے مشکل سفارتی توازن سعودی عرب اور ایران کے حوالے سے ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تاریخی، مذہبی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات ہیں، بحیرہ عرب کی سمندری سرحد کو مدنظر رکھیں تو سعودی عرب کو ہمسایہ کہا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ ہماری طویل سرحد ہے، مشترکہ تاریخ ہے اور مغربی سرحد کا امن براہِ راست ہمارے قومی مفاد سے جڑا ہے۔ پاکستان کی اصل سفارتی آزمائش اسی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔
پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ مختلف فریقوں سے بات کر سکتا ہے۔ واشنگٹن سے بھی، تہران سے بھی، ریاض سے بھی، بیجنگ سے بھی۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کسی ایک عالمی یا علاقائی کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفاد کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز بنائے۔
یہ راستہ آسان نہیں۔ اگر پاکستان کسی ایک فریق کے بہت قریب چلا جائے تو دوسرے کے ساتھ اس کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اگر وہ ہر طرف خوش رکھنے کی کوشش کرے تو اس کی پالیسی غیرواضح نظر آ سکتی ہے۔
اس لیے اصل ضرورت توازن کی نہیں، واضح قومی ترجیحات کے ساتھ متوازن سفارت کاری کی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب خارجہ پالیسی کا مطلب سفیر، وزارتِ خارجہ، سربراہی ملاقاتیں اور معاہدے سمجھا جاتا تھا۔ آج ایسا نہیں۔ تیل کی قیمت بھی خارجہ پالیسی ہے۔ سمندری راستوں کی سلامتی بھی خارجہ پالیسی ہے۔
پاکستانی تارکینِ وطن کا روزگار بھی خارجہ پالیسی ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ترسیلاتِ زر بھی خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کے پٹرول پمپس پر اس کا اثر پہنچتا ہے۔ خلیج میں کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستانی کارکن، تاجر اور صنعت کار بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو economic diplomacy کو خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنانا ہوگا۔
عراق اور افغانستان کی جنگوں نے ایک تلخ سبق دیا ہے: عسکری طاقت بحران کو دبا سکتی ہے مگر پائیدار امن کا متبادل نہیں بن سکتی۔ میں نے ان دونوں جنگوں کو بطور صحافی قریب سے دیکھا ہے۔
جنگ کے پہلے دن کی خبر شاید چند سطروں میں آ جاتی ہے لیکن جنگ کے اثرات برسوں تک ختم نہیں ہوتے۔ اسی لیے پاکستان کو ہر بحران میں یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ وہ کتنا طاقتور ہے۔
اسے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ کتنا قابلِ اعتماد ہے۔ اب پاکستان کو کیا کرنا ہے۔ پاکستان کوخطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے فعال رکھنے ہیں۔ اپنی داخلی معیشت کو بھی مضبوط کرنا ہوگا کیونکہ کمزور معیشت مضبوط خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔
دنیا آپ کی بات اس وقت زیادہ غور سے سنتی ہے جب آپ کے پاس سفارتی وژن کے ساتھ معاشی وزن بھی ہو۔ آج پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کا جغرافیہ اسے بہت کچھ دے سکتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنے جغرافیے کے قیدی بنیں گے یا اسے اپنی سفارتی طاقت بنائیں گے۔ میں نے جنگ کے میدان میں ایک بات بہت قریب سے دیکھی ہے:
میزائل چند لمحوں میں شہر تباہ کر دیتے ہیں مگر امن بنانے میں نسلیں لگ جاتی ہیں۔ پاکستان کے پاس آج ایک موقع ہے کہ وہ آنے والی جنگوں کی خبر دینے کے بجائے، ان کے راستے میں سفارت کاری کی ایک میز رکھ دے۔ جغرافیہ نے پاکستان کو مقام دیا ہے، اب وقت ہے کہ سفارت کاری اسے کردار دے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل