Sunday, September 27, 2026
 

سعودی عرب کو دفاعی نوعیت کی فوجی تعاون فراہم کر رہے ہیں، فرانسیسی وزیرخارجہ

 



فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئیل بیروٹ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فرانس فوجی تعاون فراہم کر رہا ہے جو مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا تعاون ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئیل بیروٹ نے صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے سعودی عرب کو فوجی تعاون کے تحت فوج، ریڈار یونٹس اور دفاعی نظام فراہم کرنے کے اعلان کے بعد یہ بیان دیا ہے۔ جین نوئیل بیروٹ سے انٹرویومیں پوچھا گیا کہ کیا فرانس کی جانب سے سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی فوجی مدد حوثی کے خلاف جنگ میں حصہ دار بننے کی کاوش ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ تعاون مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی جنگ کے آغاز سے ہی ہم نے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے تحفظ ک لیے فوجی اثاثے منتقل کردیے تھے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی وقت اس جنگ کا فریق سمجھا جاسکتا ہے، تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ خیال رہے کہ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے دو روز قبل بیان میں کہا تھا کہ فرانس اپنے فوجی اور دفاعی نظام سعودی عرب بھیجے گا تاکہ ساحلی شہر یانبو کو حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد کی جائے، جو توانائی کی فراہمی بنیادی مرکز ہے۔ میکرون نے کہا تھا کہ ہم فوجی وسائل سعودی عرب بھیج رہے ہیں جو وہاں تعینات ہوں گے، ان میں فوج، ریڈار سسٹم اور دفاعی نظام بھی شامل ہے تاکہ ہم اس تنازع میں شامل ہوئے بغیر مذکورہ علاقے کا دفاع کیا۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور اہم سمندری راستے باب المندب کی بندش سے دنیا میں توانائی کے نئے بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے توڑ کے لیے فرانس کے صدر نے بھی اپنے عوام کو یقین دلایا ہے۔ ادھر حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں اور تیل کی اہم تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے بدستور جاری ہیں، جس کو مشرق وسطیٰ میں ایک نئے تنازع کے خدشے کے طور پر دیکھا جارہا ہے، حوثیوں کے حملوں میں یانبو شہر میں تیل کے اہم ٹرمینل اور تنصیابات کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کو دھمکی بھی دی ہے کہ وہ توانائی کی برآمد روکنے کے لیے ناکابندی کریں گے جبکہ سعودی عرب نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل کی ترسیل بحیرہ احمر کی طرف منتقل کردی تھی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل