Monday, September 28, 2026
 

سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا، لیکن حملہ کیا تو تباہ کن جنگ کے لیے بھی تیار ہیں، عباس عراقچی

 



ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران دشمن کے ساتھ دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہے چاہے صورتحال انتہائی تباہ کن جنگ تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے تاہم تہران اب بھی سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی نشریاتی پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران امن اور مذاکرات کے راستے کو مسترد نہیں کرتا کیونکہ امن کے کسی بھی ممکنہ موقع کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے تہران کی شرائط بھی دہرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے منجمد کیے گئے اثاثے بحال کیے جائیں ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی جائے اور وہ وعدے پورے کیے جائیں جو امریکا گزشتہ معاہدوں میں کرچکا ہے۔ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ سال 12 روزہ جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا جس کے باعث تہران کے لیے دوبارہ سفارت کاری کی طرف واپسی مشکل ہوئی۔ ان کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی امن منصوبہ مسترد کیے جانے کی اطلاعات سنی ہیں تاہم تہران اب بھی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل