Loading
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران دشمن کے ساتھ دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہے چاہے صورتحال انتہائی تباہ کن جنگ تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے تاہم تہران اب بھی سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی نشریاتی پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران امن اور مذاکرات کے راستے کو مسترد نہیں کرتا کیونکہ امن کے کسی بھی ممکنہ موقع کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے تہران کی شرائط بھی دہرائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے منجمد کیے گئے اثاثے بحال کیے جائیں ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی جائے اور وہ وعدے پورے کیے جائیں جو امریکا گزشتہ معاہدوں میں کرچکا ہے۔
عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ سال 12 روزہ جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا جس کے باعث تہران کے لیے دوبارہ سفارت کاری کی طرف واپسی مشکل ہوئی۔
ان کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی امن منصوبہ مسترد کیے جانے کی اطلاعات سنی ہیں تاہم تہران اب بھی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل