Wednesday, September 30, 2026
 

ایران امریکا کشمکش میں ثالثی کی نئی راہیں

 



دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان بعض اوقات اصل جنگ میدانِ جنگ میں نہیں، پیغامات کے ان راستوں پر لڑی جاتی ہے جہاں ایک لفظ کی سختی اور دوسرے لفظ کی نرمی پورے خطے کے مستقبل کا رخ بدل سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت یہی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔ توپوں کی گھن گرج، بحری جہازوں کو لاحق خطرات، پابندیوں اور دھمکیوں کے شور کے درمیان قطر کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ اس امر کی علامت ہے کہ دونوں فریق تصادم کی قیمت سے پوری طرح آگاہ ہیں، مگر اپنی اپنی شرائط سے پیچھے ہٹنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ تہران نے اپنا سات نکاتی منصوبہ واشنگٹن تک پہنچا دیا ہے اور اب امریکی جواب کا انتظار ہے۔ یوں مذاکرات کی میز ابھی باقاعدہ طور پر قائم نہیں ہوئی، لیکن اس تک پہنچنے کے لیے کئی دروازے کھولے جا چکے ہیں۔  ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا کہ تہران نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے مختلف تجاویز اور ممکنہ حل پر گفتگو کی ہے، موجودہ بحران کی پیچیدگی کو نمایاں کرتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست رابطے کی بجائے قطر، پاکستان اور دیگر سفارتی ذرائع کا استعمال محض سہولت کاری نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی ضرورت ہے جس کے بغیر فریقین کے لیے اپنے سخت مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے مفاہمت کی گنجائش پیدا کرنا مشکل ہے۔ بالواسطہ سفارت کاری میں ہر فریق اپنے داخلی سیاسی حلقوں کے سامنے یہ مو قف برقرار رکھ سکتا ہے کہ اس نے اصولی موقف سے انحراف نہیں کیا، جب کہ پس پردہ کسی قابلِ قبول فارمولے کی تلاش بھی جاری رہتی ہے۔ قطر کا کردار اس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ خلیج کے موجودہ بحران میں وہ ایران، امریکا اور عرب دنیا کے درمیان پیغام رسانی کے لیے ایک قابلِ استعمال سفارتی پل فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں بھی اسی وسیع تر سفارتی عمل کا حصہ ہیں۔ اسلام آباد کے لیے یہ محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے براہِ راست قومی سلامتی، معیشت، توانائی اور خطے میں اس کے تعلقات سے جڑا سوال ہے۔ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات خلیج سے نکل کر عالمی منڈی، تیل کی قیمتوں، سمندری تجارت اور پاکستان سمیت درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز اس بحران کا سب سے حساس نقطہ ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے مخصوص شرائط موجود ہیں، جب کہ ایرانی قیادت کے بیانات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہرمز کو مذاکراتی دباؤ کے ایک اہم وسیلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف کا یہ انتباہ کہ اگر ایران اپنا تیل فروخت نہیں کر سکتا تو خطے میں کسی دوسرے ملک کے لیے بھی تیل کی فروخت آسان نہیں ہوگی، اس حکمت عملی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح بنیادی ڈھانچے کے تحفظ سے متعلق سخت بیانات یہ بتاتے ہیں کہ تہران اقتصادی دباؤ کو محض تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ وسیع تر سلامتی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔تاہم زمینی صورت حال میں ایک اہم تبدیلی بھی سامنے آئی ہے۔ بیشتر ٹینکرز کے دوبارہ آبنائے ہرمز سے گزرنے اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں بحالی کے آثار نے ایران کے اس دباؤ کو کسی حد تک محدود کیا ہے جو ہرمز کی بندش کے ذریعے پیدا کیا گیا تھا۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق آبنائے کے ذریعے تیل کی ترسیل روکنے کی ایرانی صلاحیت کمزور پڑ رہی ہے، جب کہ امریکی اور خلیجی ریاستوں کی بحری و دفاعی استعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورت حال کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ختم ہو گیا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بحران کے دونوں فریق اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہاں توانائی کی عالمی منڈی کا ردعمل بھی قابلِ غور ہے۔ ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ایشیا کے بڑے صارف ممالک شدید توانائی بحران سے دوچار ہوجائیں گے۔ چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا مشرق وسطیٰ سے توانائی حاصل کرنے والے بڑے خریدار ہیں، لیکن متبادل ذرائع، موجودہ ذخائر اور سپلائی کے نئے راستوں نے فوری اور وسیع پیمانے کی قلت کو محدود رکھا۔ نیویارک ٹائمز کی تجزیاتی رپورٹ بھی اسی امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عالمی منڈی نے بحران کے ابتدائی جھٹکے کو جذب کرنے کے لیے اپنی سپلائی زنجیروں میں فوری ردوبدل کیا۔  یہ پیش رفت عالمی معیشت کے لیے ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ جدید دنیا میں کسی ایک گزرگاہ کو محدود مدت کے لیے دباؤ میں لایا جا سکتا ہے، مگر عالمی تجارت اب اتنی یک رخی نہیں رہی کہ ایک راستے کی رکاوٹ لازماً فوری طور پر مکمل معاشی مفلوجی میں تبدیل ہوجائے۔ ذخائر، متبادل بندرگاہیں، پائپ لائنیں، مختلف ممالک سے خریداری اور عالمی منڈی میں دستیاب تجارتی راستوں نے توانائی کی فراہمی کو کچھ حد تک لچک فراہم کی ہے، لیکن اس لچک کو مستقل تحفظ سمجھنا بھی درست نہیں۔ اگر بحران طویل ہوا تو ذخائر کم ہوں گے، متبادل ذرائع پر دباؤ بڑھے گا اور بالآخر ایشیائی معیشتوں کے لیے توانائی کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایرانی قیادت کے بیانات میں بھی سختی اور سفارت کاری بیک وقت دکھائی دیتی ہے۔ ایک جانب تہران امریکی پالیسی پر شدید تنقید کرتا ہے، دوسری جانب سات نکاتی منصوبہ پیش کرکے مذاکراتی راستہ کھلا رکھتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی عوام سے موجودہ انتظامیہ کو تبدیل کرنے کی اپیل سیاسی جنگ کے دائرے کو مزید وسیع کرتی ہے۔ ایسے بیانات مذاکراتی ماحول کو پیچیدہ ضرور بناتے ہیں، کیونکہ کسی بھی فریق کی طرف سے دوسرے ملک کے داخلی سیاسی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش اعتماد سازی کے امکانات کو محدود کرسکتی ہے۔ امریکی پابندیاں بھی اسی کشمکش کا دوسرا رخ ہیں۔ ایرانی مبینہ ہتھیاروں کی خریداری سے متعلق دس افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ واشنگٹن نے سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، لیکن اقتصادی دباؤ کے آلات بھی ترک نہیں کیے۔ یوں ایک طرف ثالثی کے ذریعے تجاویز کا تبادلہ جاری ہے اور دوسری طرف پابندیاں اور عسکری دباؤ بھی موجود ہیں۔ یہی تضاد اس بحران کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچنے سے روک رہا ہے۔  ہرمز میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ بھی واضح کرتا ہے کہ سفارتی سرگرمیوں کے باوجود سمندری محاذ پر معمول کی صورت حال بحال نہیں ہوئی۔ عملے کا محفوظ رہنا ایک مثبت پہلو ضرور ہے، مگر تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرے کا برقرار رہنا عالمی معیشت کو مسلسل غیر یقینی میں رکھتا ہے۔ دوسری طرف ایران کی کیسپین ایئرلائنز کے طیارے کا واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ترکی میں روکا جانا اس بحران کے ایک کم دکھائی دینے والے پہلو کی یاد دہانی ہے کہ جنگ اور پابندیوں کے اثرات صرف میزائلوں اور جنگی جہازوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ مالیاتی نظام، ہوا بازی، تجارت اور روزمرہ اقتصادی سرگرمیوں تک پھیل جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ تعطل میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے، مگر یہی وقت سب سے زیادہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ اگر ثالثی کے ذریعے پیش کی گئی تجاویز پر سنجیدہ جواب سامنے آتا ہے تو کشیدگی کم کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے،لیکن اگر سفارتی وقفہ صرف نئی عسکری تیاری کے لیے استعمال ہوا تو حالات دوبارہ زیادہ خطرناک رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ اس لیے قطر اور پاکستان جیسے ثالثوں کی ذمے داری صرف پیغام پہنچانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ انھیں ایسے نکات تلاش کرنے میں مدد دینی ہوگی جہاں دونوں فریق اپنی بنیادی سلامتی اور سیاسی ضروریات کو محفوظ سمجھ سکیں۔ اس بحران کا پائیدار حل کسی ایک فریق کی مکمل پسپائی میں نہیں بلکہ ایسے قابلِ عمل سمجھوتے میں مضمر ہے جس میں آبنائے ہرمز کی آزادی، آمدورفت، علاقائی سلامتی، توانائی کی عالمی فراہمی اور متعلقہ فریقوں کے بنیادی تحفظات کو ایک ساتھ دیکھا جائے۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ توانائی کی چند اہم گزرگاہوں پر انحصار کم کرنے، متبادل ذرائع پیدا کرنے اور بحران کے وقت عالمی تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے طویل المدت حکمت عملی اختیار کرے۔ موجودہ بحران نے ثابت کردیا ہے کہ جنگ کا دھواں سرحدوں سے کہیں آگے جاتا ہے، اگر ہرمز میں ایک لہربے قابو ہو تو اس کی بازگشت ایشیا کی صنعتوں، عالمی منڈیوں اور عام آدمی کی جیب تک سنائی دیتی ہے۔ اسی لیے اب اصل کامیابی کسی ایک فریق کے دباؤ بڑھانے میں نہیں، بلکہ اس مقام تک پہنچنے میں ہے جہاں سفارت کاری جنگ کی جگہ لے سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل