Loading
سویڈن کے معروف ماہر معاشیات Gunnar Myrdal نے ایک مشہور کتاب ’’ایشین ڈرامہ‘‘ تحریر کی تھی۔ گنارمرڈل نے دنیا بھر کی ریاستوں کا تجزیہ کرتے ہوئے ’’سخت ریاست Hard State‘‘ کا تصور پیش کیا تھا۔ اس تعریف کے مطابق سخت ریاست وہ ہے جو اپنے بنائے ہوئے قوانین کو موثر طور پر نافذ کرے، اپنی ریاستی شہری آزادیوں کو قربان کرکے نظم و ضبط قائم کرتی ہے۔ ان ریاستوں میں آزادی اظہار اور میڈیا اور عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگائی جاتی ہے، احتجاج کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔
یہ ریاستیں یہ بیانیہ اختیارکرتی ہیں کہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر پابندیاں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے عائد کی گئی ہیں مگر ہارڈ اسٹیٹ میں عوام کا بدترین استحصال ہوتا ہے، اگر ہندوستان کی ہزار سالہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو مختلف بادشاہوں کا دور سامنے آتا ہے۔ خلجی ، تغلق اور لودھی سے لے کر مغلوں کے دور تک سخت ریاست کا ماڈل سامنے آتا ہے۔
اس ہزار سال سے زیادہ کے دور میں مطلق العنان بادشاہتیں قائم تھیں ۔ حکمرانوں کا بیشتر وقت فتوحات میں گزرتا تھا، رعایا کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ جو فرد کسی بادشاہ کی پالیسی پر اعتراض کرتا یا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا وہ باغی یا غدار کہلاتا تھا۔ کوئی عدالت باغی کو انصاف نہیں دلاسکتی تھی۔ بادشاہ وقت باغی فرد کو سزائے موت سے لے کر آنکھوں کو اندھا کرنے، ہاتھ پاؤں کاٹنے یا زندان خانوں میں قید کرنے کا فیصلہ کرتا تھا۔ اس دور میں غریبوں کے حالات خراب رہتے تھے۔ سارا فائدہ امراء کو ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر قبضہ کرنا شروع کیا تو مختلف ریاستوں کی فوج اپنے سے کم انگریز فوج کا مقابلہ نہیں کرپائی تھی۔
1757میں پلاسی کی جنگ میں چند ہزار انگریز فوج ایک لاکھ سے کم نواب سراج الدولہ کی فوج کو شکست دینے میں اس لیے کامیاب ہوئی تھی کہ نواب سراج الدولہ کی فوج کے سپاہی اپنے حکمران کی پالیسیوں سے نفرت کرتے تھے، پھر ہندوستان میں انگریز راج قائم ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت نے 1857کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد لاکھوں ہندوستانیوں کا قتل عام کیا۔ بنگال کے کسانوں پر بے تحاشا ٹیکس عائد کیا گیا اور وہاں کی مقامی صنعت کو ختم کردیا گیا۔ ہندوستان سے دولت لوٹ کر انگلستان لے گئے۔
برطانیہ کے شہر ہندوستان سے آنے والی دولت سے جدید شہروں میں تبدیل ہوئے مگر انگریز حکومت نے 1947تک بنیادی انسانی حقوق پر پابندیاں عائد کیے رکھیں۔ امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں ہندوستانی شہریوں کا قتل عام ہوا اور بنگال میں پڑنے والا قحط اس کی واضح مثالیں ہیں۔ انگریز ہندوستان میں مذہبی ، سماجی، لسانی، ذات پات اور طبقاتی تضادات کو ورثے میں چھوڑ گئے۔
ہارڈ اسٹیٹ کی ایک اور مثال ہٹلر کے دور میں جرمنی کی ہے۔ جرمنی میں جدید دور کا آغاز 18ویں صدی میں ہوا۔ جرمنی میں صنعت لگنا شروع ہوئی اور جرمنی میں آئینی بادشاہت قائم ہوئی۔ Kaisar William II جرمنی کے پہلے بادشاہ تھے۔ جرمنی میں مزدور طبقے نے بنیادی انسانی حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی تاریخ رقم کی تھی، یوں جرمنی Weimar Republic کہلاتا تھا۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف جرمنی، جرمن پیپلز پارٹی اور دائیں بازو کی جرمن کیتھولک پارٹی متحرک تھیں مگر پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کے بعد صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ جرمنی کی تاریخ کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1918 سے 1933تک Weimar German Republic میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط تھیں اور جرمنی ٹیکنالوجی میں ترقی کررہا تھا، مگر اس دور میں جرمنی میں متناسب نمائندگی کا نظام نافذ تھا۔ ہٹلر نے جمہوری نظام میں حصہ لینا شروع کیا اور انتخابات میں نازی پارٹی نے اکثریت حاصل کرلی، یوں جرمنی میں ہٹلر کی بدترین آمریت کا دور شروع ہوا۔
یہ دور 1933میں شروع ہوا اور دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر 1945میں نازی پارٹی کا خاتمہ ہوا۔ اگرچہ ہٹلر جمہوری انداز میں اقتدار میں آیا تھا مگر ایک جماعتی نظام قائم کیا گیا۔ پارلیمنٹ کے اختیارات کو محدود کردیا گیا، عدلیہ کی آزادی کتابوں تک محدود ہوئی۔ اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن سینٹر کو حکمران جماعت کے بیانیہ کی اشاعت اور نشر کرنے تک محدود کیا گیا۔ ہٹلر نے یہودیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا اور یہودیوں کی باقاعدہ نسل کشی کی گئی۔ ہٹلر نے اپنی نسل پرستی کے بیانیہ کو اپنایا اور جرمنی کو دنیا کی سب سے بڑی ذہین قوم قرار دیا۔ نازی جرمنی میں خفیہ ایجنسی گسٹاپو کے دائرہ کار کو گھروں تک پہنچادیا گیا۔ ہٹلر کی حکومت کی جنگجوانہ پالیسیوں پر تنقیدی نقطہ نظر رکھنے والوں کو قتل کیا گیا یا کنسٹریشن کیمپوں میں بھیج دیا گیا۔ جرمنی میں تمام مزاحمتی قوتوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس دور میں یہودی ہونے کے علاوہ کمیونسٹ ہونے پر بھی سخت سزائیں دی گئیں، ہٹلر نے استعماری پالیسی اختیار کی۔ اس نے فرانس اور آسٹریا پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی فوجیں بھیج دیں۔ اس کے ساتھ برطانیہ پر بھی حملے شروع کردیے۔ دوسری طرف سوویت یونین کے خلاف جنگ شروع کردی گئی جس پر برطانیہ، فرانس اور سوویت یونین کی قیادت میں نازی ازم کے خاتمے کے لیے معاہدہ کیا گیا۔ اتحادی افواج نے جرمنی کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور جرمنی کو شکست ہوگئی۔ اس شکست کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک مغربی جرمنی اور دوسرا مشرقی جرمنی وجود میں آیا۔ جرمنی کی تقسیم سے اس کی ترقی متاثر ہوئی۔امریکا نے جرمنی میں اپنے اڈے قائم کیے۔ مشرقی جرمنی میں کمیونسٹ پارٹی نے اقتدار سنبھال لیا ۔ 1990میں جرمنی دوبارہ متحد ہوا اور جرمنی نے تیزی سے ترقی کرنا شروع کی اور اب جرمنی میں شہریوں کو تمام بنیادی حقوق حاصل ہوئے، اسی طرح ایک مثال قدیم جنوبی افریقہ کی بھی ہے۔ ایک ہزار سال پہلے جنوبی افریقہ تاریخ کے نقشہ پر موجود تھا۔
کہا جاتا ہے کہ اس علاقے میں سیاہ فام افراد کی حکومت تھی اور یہ علاقہ معدنیات سے مالا مال تھا۔ یورپی ممالک کے سرمایہ کاروں نے افریقی ممالک کی معدنی دولت کو لوٹنا شروع کیا۔ جنوبی افریقہ میں سفید فام باشندوں کی اقلیت حکومت قائم ہوئی، اس حکومت کو عوام کی حمایت حاصل نہ تھی۔ سفید فام حکومت نے اپنی پالیسیوں میں نسلی امتیاز کو روا رکھا۔ ذرائع ابلاغ پر پابندیاں عائد کردی گئیں اور عدالتی انتظامیہ کی محتاج ہوگئیں۔ سیاہ فام عوام کی اکثریت کو شہروں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے نئے نئے قوانین نافذ کیے گئے، یوں سیاہ فام عوام کی تمام آزادیاں چھین لی گئیں۔ جنوبی افریقہ میں سفید فام آبادی کی اکثریت کو ثابت کرنے کے لیے جعلی انتخابات کروائے گئے۔ اس دور میں افریقی عوام میں سے چند افراد ہی تعلیم حاصل کرسکے۔
1912ء میں افریقی نیشنل کانگریس قائم ہوئی۔ نیشنل کانگریس نے نیلسن منڈیلا کی قیادت میں برسوں طویل جدوجہد کی۔ نیلسن منڈیلا نے تقریباً 27 سال سے زیادہ عرصہ جیلوں میں گزارا اور آخرکار 1991 میں جنوبی افریقہ آزاد ہوا۔ ہارڈ اسٹیٹ ختم ہوئی اور آج جنوبی افریقہ امریکا اور اسرائیل کے سامراجی عزائم کے خلاف سب سے بڑی طاقت ہے۔ روس میں کمیونسٹ پارٹی نے 1917 میں لینن کی قیادت میں شہنشاہ زار کا تختہ الٹا اور پہلی سوشلسٹ ریاست سوویت یونین قائم ہوئی۔
لینن نے سوویت یونین کے استحصال سے پاک ریاست کے قیام، جاگیرداری نظام کے خاتمے، خواتین کے یکساں حقوق، تعلیم، صحت اور روزگار ریاست کی ذمے داری کے اصولوں کے تحت نئی ریاست قائم کی۔ سوویت یونین میں زبردست ترقی ہوئی اور یہ دنیا کی دوسری بڑی ایٹمی طاقت بن گیا، مگر سوویت یونین میں میڈیا کو آزادی نہیں ملی اور وہ ریاستی انتظامیہ کا حصہ رہا ۔ سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی کے جی بی کا بنیادی فریضہ منحرفین کو ختم کرنا تھا۔ اس انقلاب کا المیہ یہ ہے کہ جن دانشوروں نے سوویت یونین کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا وہ سب قتل کردیے گئے تھے جس کی بناء پر سوویت یونین ٹوٹ گیا۔
ایشیا اور افریقہ میں کئی ہارڈ اسٹیٹ موجود ہیں جو معاشی طور پر پسماندہ ہیں۔ ان ریاستوں پر آمرانہ حکومت ہے یا محدود جمہوریت کا تصور ہے ۔ تمام وسائل حکمران طبقہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ میڈیا، عدلیہ ، حتیٰ کہ یونیورسٹیوں کو بھی ریاست ریگولیٹ کرتی ہے۔ ان ریاستوں میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والی مزاحمتی تنظیموں کو ختم کردیا جاتا ہے اور ان کے قائدین اور کارکنان کو طویل عرصے تک قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور کچھ کو تو موت کی سزا تک دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف نوعیت کے مذہبی ، لسانی، ذات پات اور فرقہ وارانہ تضادات کو ہوا دے کر عوام کو تقسیم کرنے کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے، مگر ان ریاستوں کا مستقبل ہمیشہ مخدوش ہوتا ہے اور ان ریاستوں کی پسماندگی سے صرف وہاں کے عوام ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ خطے کا امن بھی خطرہ میں پڑا رہتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل