Friday, October 02, 2026
 

کرپشن کے خلاف سندھ حکومت کا مستحسن اقدام

 



سندھ حکومت نے 19ارب روپے کی کرپشن ثابت ہونے پر محکمہ خوراک کے 35 اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کرکے ملزموں سے اس بڑی رقم کی وصولی اور قانونی کارروائی کے ذریعے انھیں انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے جو سندھ حکومت کا ایک بڑا قدم ہے۔ 35 کرپٹ ملازمین میں مختلف عہدوں پر تعینات ایسے افسران بھی ہیں جنھوں نے ذاتی طور پر تین ارب تک رشوت وصول کی اور باقی ملازمین کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث تھے۔ ان کرپٹ ملازمین کے نام بھی میڈیا میں آ چکے ہیں جنھیں برطرف کیا گیا مگر کسی کی بھی گرفتاری کی خبر منظر عام پر نہیں آئی۔ کرپشن کے خلاف سندھ حکومت کا یہ بڑا قدم ہے جو دیر سے اٹھایا گیا مگر اس مثبت فیصلے کے نتائج بھی برآمد ہونے چاہئیں۔ سندھ حکومت کو مسلسل مبینہ طور پر ملک بھر میں 18 سالہ کرپشن پر بدنام کیا گیا جبکہ اسلام آباد کے ایک سینئر صحافی و تجزیہ کار کے مطابق کے پی کرپشن میں سندھ سے کہیں آگے ہے مگر وہاں کی پی ٹی آئی کی حکومت میں وہاں کی اپوزیشن سندھ کی اپوزیشن کی طرح مضبوط ہے نہ وہاں اپنی سیاست کے لیے سندھ کی طرح قوم پرست ہیں جو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر آواز اٹھاتے ہیں۔  سندھ میں پیپلز پارٹی کی 18 سال اور کے پی میں تحریک انصاف کی 13 سالوں سے مسلسل اور موجودہ دونوں حکومتیں دو تہائی اکثریت کی حامل ہیں مگر سندھ کی طرح کے پی کی حکومت میں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم شامل نہیں۔ کے پی میں جے یو آئی کا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہے اور (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہیں مگر کے پی کے برعکس سندھ میں پارلیمانی اپوزیشن کے علاوہ باہر وہ قوم پرست جماعتیں ہیں۔ جے یو آئی سندھ کے ایک اہم عہدیدار کا کہنا ہے کہ سندھ میں کوئی ایک ایسا محکمہ نہیں جو کرپشن سے پاک ہو اور سندھ میں رشوت وصول کیے بغیر کوئی جائز کام نہیں ہوتا۔ سندھ کی کئی پارٹیوں کی اپوزیشن رشوت ستانی کا الزام سندھ پبلک سروس کمیشن اور سندھ کے محکمہ ریونیو پر لگاتی ہیں۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم، تحریک انصاف، جی ڈی اے اور جماعت اسلامی اپوزیشن میں اور جے یو آئی سندھ بھر میں پی پی حکومت کی مخالفت میں جلسے کر رہی ہے جس نے 2024 میں اندرون سندھ سے نمایاں ووٹ لیے تھے اور اسٹریٹ پاور بھی رکھتی ہے۔ سیاسی اور عوامی حلقوں کے مطابق سندھ میں پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکومت میں پہلی بار کرپشن کے خلاف سندھ کی حکومت کا ایک بڑا اقدام سامنے آیا ہے جس میں محکمہ خوراک واحد محکمہ ہے جس کے 35 رکنی عملے پر 19 ارب کی کرپشن کا الزام ہے اور رشوت وصول کرنے والوں کے نام اور رشوت کی رقم وصولی کی تفصیلات ظاہر ہوئی ہیں مگر حیرت اس بات کی ہے کہ سندھ کی حکومت کے کسی اعلی عہدیدار نے کسی پریس کانفرنس میں اس اہم اقدام کی تفصیلات بیان نہیں کیں اور سندھ حکومت کے لاتعداد ترجمانوں نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ دیگر محکموں اور بدعنوانوں کو متنبہ کیا جانے کے لیے ضروری تھا کہ اعلیٰ سطح پر اس کی تشہیر کی جاتی جس کا عوام میں اچھا تاثر جاتا اور حکومت کا نام ہوتا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے سوا کرپشن کے الزامات تمام پارٹیاں لگا رہی ہیں اور سندھ اسمبلی میں چار روزہ تحریک التوا کی تقریروں میں بھی سندھ میں کرپشن کا نئے صوبوں اور سندھ کی تقسیم کے بعد سب سے زیادہ چرچا مبینہ کرپشن کا رہا مگر سندھ حکومت نے کوئی تردید بھی نہیں کی جبکہ سندھ کے وزیر محنت سعید غنی واحد وزیر ہیں جنھوں نے برملا اپنے محکمے میں رشوت کا اعتراف کیا تھا مگر کرپٹ اہلکاروں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں۔ سندھ کے محکمہ آبپاشی سے متعلق روزنامہ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اس بار سندھ میں سیلاب نہیں آیا مگر محکمہ آبپاشی نے 77 کروڑ روپے سیلاب روکنے پر خرچ کر ڈالے اور تکنیکی کمیٹی کی منظوری کے بعد بل بنا کر سندھ حکومت کو بھیج دیا اور بھاری اضافی گرانٹ بھی مانگی گئی جس پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ اس بل کی منظوری سے پہلے سمری کے آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کا حکم دیں کیونکہ سرکاری فنڈ غلط استعمال کیا جا رہا ہے جس کی منصفانہ تحقیقات ضروری ہے۔ سندھ چیمبرز آف ایگریکلچرل کے مطابق 2025 میں کوئی سیلاب آیا تھا اور نہ ہی بندوں کی مضبوطی کے لیے کوئی کام ہوا تھا اور زمین پر اس کے برعکس کوئی بہتری بھی نظر نہیں آئی۔ صوبوں میں جاری کرپشن کوئی نئی بات نہیں یہ 2008 کے بعد سے نہیں بلکہ عشروں سے ہوتی آ رہی ہے اور ہر حکومت میں ایسے الزامات لگتے رہے ہیں مگر سندھ میں پہلی بار محکمہ خوراک میں عشروں سے جاری کرپشن پر پی پی حکومت کی کارروائی سامنے آئی ہے جس سے سندھ میں جاری کرپشن کی حوصلہ شکنی اور حکومتی اقدام کی تعریف ہوگی اور سندھ حکومت پر کرپشن کے جو الزامات لگائے جا رہے ہیں ان کا بھی سرکاری جواب مل جائے گا۔ سندھ حکومت نے محکمہ خوراک میں یہ سخت اقدام مکمل تحقیقات کے بعد ہی کیا ہے جس میں کرپشن کی رقم کی وصولی کے علاوہ ملزمان کے خلاف فوجداری کارروائی کا بھی کہا گیا ہے۔ 19 ارب کی یہ رقم معمولی نہیں مگر ماضی میں یہ ہوتا آیا ہے کہ پکڑے گئے بدعنوان عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں۔ ایک بات ویسے ہی مشہور ہے کہ لے کے رشوت پھنس گیا دے کر رشوت چھوٹ جا۔ محکمہ خوراک کی کرپشن ویسے بھی بہت مشہور ہے کہ جس کے گوداموں میں موجود گندم چوہے کھا جاتے ہیں یا وہ مٹی بن جاتی اور بار دانہ غائب ہو جاتا ہے مگر ذمے داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی اب جو کارروائی ہوئی ہے وہ نتیجہ خیز ہونی چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل