Loading
صحرا کے آخری کنارے پر، جہاں ریت کی پیاس کبھی نہیں بجھتی اور ہوائیں بھی خشک سالی کا نوحہ پڑھتی محسوس ہوتی ہیں، ایک کسان اپنے خشک اور ویران کنویں کے تاریک دہانے پر جھکا، خلا میں گھور رہا ہے۔ اس کی پھٹی ہوئی ایڑیوں اور ماتھے کی شکنوں میں صدیوں کی مشقت درج ہے، مگر آج اس کی آنکھوں میں صرف ایک بے بسی ہے۔
چند کلومیٹر کے فاصلے پر، اسی صحرائی منظر نامے کی وسعتوں میں ایک دیوہیکل، وسیع و عریض اور بے کھڑکی عمارت ایستادہ ہے۔ یہ ایک ایسا سرد اور خاموش قلعہ ہے جس کی فصیلوں کے اندر ہزاروں کمپیوٹرز اور سرورز مسلسل دھڑک رہے ہیں۔ کسان کی بنجر اور چٹخی ہوئی زمین کو زندگی کی بقا کے لیے پانی کی ایک بوند کی طلب ہے اور اس دیوہیکل عمارت کی مشینی رگوں کو بھی اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے مسلسل وسائل درکار ہیں۔
دھیان رہے کہ ان دونوں کی طلب اور پیداوار میں ایک ہولناک اور سفاکانہ فرق ہے۔ کسان کا پسینہ مٹی سے وہ اناج اگاتا ہے جو انسانیت کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے، جب کہ وہ سرد اور بے حس عمارت صفر اور ایک کی زبان میں ’’ذہانت‘‘ پیدا کر رہی ہے؟ یا ذہانت کے نام پر سرمایے کی ڈنڈوت کر رہی ہے؟
ہم اکیسویں صدی کے اس شدید ترین فریب میں جی رہے ہیں کہ ہمارا سارا جدید ڈیٹا، ہماری تمام تر معلومات اور یہ کرشماتی مصنوعی ذہانت کسی غیر مرئی، لطیف اور ہوائی ’’بادل‘‘ (کلاؤڈ) میں محفوظ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ایسا تجریدی نظام ہے جس کا مادی دنیا کے وسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس اور قدرے خوفناک ہے۔ یہ کلاؤڈ بالآخر کوئی بادل نہیں ہے۔
یہ لوہے، کنکریٹ، تاروں اور سلیکان سے بنی ایک ٹھوس عمارت ہے۔ اس کے اندر لاکھوں مشینیں اور مائیکرو چپس ہیں۔ ان مشینوں کو جاگتے رہنے کے لیے بجلی کا ایک نہ رکنے والا سیلاب چاہیے اور ان کے تپتے ہوئے سینوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کروڑوں گیلن میٹھا پانی درکار ہے۔ اس چمکتی دمکتی اور حیران کن ڈیجیٹل ذہانت کے پردے کے نیچے مادی وسائل اور توانائی کی ایک بہت بڑی، تاریک، بھیانک اور بھوکی دنیا چھپی ہوئی ہے۔
’’اسٹینفرڈ اے آئی انڈیکس 2026' کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، صرف امریکا کے اندر اس وقت 5,427 بڑے ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ بھٹیار خانے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کی کھچڑی پک رہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر کی اے آئی ہارڈویئر سپلائی چین اور جدید ترین چپس کی تیاری کے لیے عالمی طاقتیں بڑی حد تک تائیوان کی صرف ایک فاؤنڈری پر منحصر ہیں۔ یہ وہ جغرافیائی اور تکنیکی بارودی سرنگ ہے جس پر پوری دنیا کی ڈیجیٹل معیشت کھڑی ہے۔ ایک طرف تائیوان پر منڈلاتے ہوئے عالمی تنازعات کے سائے ہیں اور دوسری طرف ان چپس کی وہ نہ بجھنے والی پیاس ہے جو دنیا کے وسائل نگلنے کو تیار ہے۔
اسی طرح، ’’ڈیلواٹ 2026ٹی ایم ٹی پری ڈکشنز‘‘ کی رپورٹ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی انفراسٹرکچر ڈیمانڈ کا ایک انتہائی ہولناک خاکہ پیش کرتی ہے۔ اس رپورٹ کی پیش گوئی کے مطابق، 2026 میں مصنوعی ذہانت کا تقریباً دو تہائی حصہ صرف انفیرنس (یعنی اے آئی کے ماڈلز کا سوالات کے جواب دینے یا فیصلے کرنے کا عمل) پر مشتمل ہوگا اور اس عمل کا سب سے بڑا حصہ ان انتہائی مہنگے اور توانائی چوسنے والے ڈیٹا سینٹر چپس پر چلنے کی توقع ہے۔
اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ جب آپ اپنے کمپیوٹر یا اسمارٹ فون پر مصنوعی ذہانت کے کسی ٹول کو محض ایک تفریحی تصویر بنانے، کوئی نظم لکھنے یا کسی سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کمانڈ دیتے ہیں، تو وہ جواب کسی جادوئی چھڑی سے نہیں آتا۔ اس ایک سیکنڈ کے جواب کے لیے کسی دور دراز ڈیٹا سینٹر میں لگی سرور کی مشین اپنی پوری طاقت لگاتی ہے، وہ بے پناہ حرارت خارج کرتی ہے، اسے چلانے کے لیے میگا واٹس میں بجلی خرچ ہوتی ہے اور اس جناتی مشین کو پگھلنے سے بچانے کے لیے کولنگ ٹاورز میں ہزاروں گیلن پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔
عالمی سطح کا یہ تکنیکی اور مادی بحران پاکستان جیسے ممالک کے لیے موت اور زندگی کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ ہم ایک ایسے خطے کے باسی ہیں جو پہلے ہی پانی کی شدید قلت ،موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں اور توانائی کے نہ ختم ہونے والے دائمی بحران کے نشانے پر ہے۔ ہمارے ہاں تو کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں پینے کے پانی کی بوند بوند پر تنازعات کھڑے ہوتے ہیں، لائنوں میں لڑائیاں ہوتی ہیں اور واٹر مافیا کا راج ہے۔ دوسری طرف سندھ اور بلوچستان کے دیہی علاقوں میں کسان نہری پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور سوکھی ہوئی زمینوں پر دہائیاں دے رہے ہیں۔ ہیٹ ویوز اور شدید گرمی کے طوفان ہر سال ہمارے آبی ذخائر کو تیزی سے چاٹ رہے ہیں۔
ہم ایک ایسی قوم ہیں جو آئی ایم ایف کے قرضوں اور گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دب کر بمشکل اپنے گھروں کے بلب روشن رکھ پاتی ہے۔ ذرا تصور کریں، جب دنیا کی سپر پاورز مصنوعی ذہانت کی اس نہ بجھنے والی پیاس کو بجھانے کے لیے پانی اور بجلی کے عالمی وسائل پر قبضہ جمانے کی دوڑ میں نکلیں گی، تو کیا ہوگا؟ اگلی عالمی جنگیں تیل یا زمین کے ٹکڑوں پر نہیں لڑی جائیں گی، بلکہ یہ جنگیں مائیکرو چپس پر اجارہ داری، گرڈ اسٹیشنز کے کنٹرول اور میٹھے پانی کے ذخائر پر لڑی جائیں گی اور اس عالمی کشمکش میں ہم جیسے ترقی پذیر ممالک، جہاں کی عوام آج بھی بنیادی انسانی ضروریات کو ترستی ہے، اس سفاک ڈیجیٹل ہوس کا خام مال اور ایندھن بن کر رہ جائیں گے۔
یہ کیسا سرمایہ دارانہ اور تکنیکی نظام ہے جو انسانیت کی فلاح کے نام پر کھڑا کیا جا رہا ہے؟ جہاں ایک بے جان مشین کو ٹھنڈا رکھنے اور اسے ’’سوچنے ‘‘ کے قابل بنانے کے لیے لاکھوں گیلن وہ صاف پانی بہا دیا جاتا ہے جو کسی انسان کی پیاس بجھا سکتا تھا۔ ذرا اس سفاک حقیقت کو ہضم کرنے کی کوشش کریں۔ ہمارے خطے میں زراعت کا سینہ کس طرح چھلنی ہے، اس کا اندازہ ہمسایہ ملک کے ’’نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو‘‘ کے حالیہ اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق صرف ایک سال کے دوران800 10,سے زائد کسان اور زرعی مزدور خودکشی پر مجبور ہوئے، یعنی محض پانی کی قلت، موسمیاتی تباہی اور قرضوں کے بوجھ تلے دب کر روزانہ اوسطاً 30 کسان موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔
پاکستان کے دیہی علاقوں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ فصلیں سوکھنے اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث سندھ اور پنجاب کے کسانوں میں کیڑے مار ادویات پی کر جان دینے کا رجحان ایک خاموش وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہم کیسی ترقی کی طرف گامزن ہیں جہاں ایک طرف کوئی صارف مصنوعی ذہانت سے محض اپنا دل بہلانے کے لیے ایک فرضی تصویر بنواتا ہے اور اس عمل میں خرچ ہونے والا پانی اس کسان کے حلق سے چھینا جاتا ہے جو دنیا کے لیے حقیقی روٹی پیدا کر رہا تھا؟ یہ تہذیب کا وہ دوراہا ہے جہاں ہمیں ایک انتہائی تلخ اور بنیادی سوال کا سامنا ہے۔
مستقبل میں زیادہ قیمتی کیا ہوگا؟ پانی کا ایک گیلن یا مصنوعی ذہانت کا ایک جواب؟
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل