Loading
اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو مبینہ طور پر تباہ کرنے کی کوشش کرنے والے معاون پائلٹ کی شناخت 29 سالہ همام الحمامي کے نام سے ہوئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق همام الحمامي ماضی میں بھی مشتبہ انتہاپسندانہ خیالات کے باعث ایک ایئرلائن کی تربیت سے ہٹایا جا چکا تھا۔
زیرِ حراست معاون پائلٹ نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ اس کا ارادہ طیارے کو اسرائیل میں گرانے کا تھا۔ یہ دعویٰ تفتیشی ذرائع سے منسوب ہے اور اس کی مکمل سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
حمام الحَمّامی کون ہے؟
همام الحمامي کی عمر 29 سال ہے۔ وہ متحدہ عرب امارات میں پیدا ہوا۔ اس کے والد عمانی جبکہ والدہ شامی نژاد ہیں۔ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ متحدہ عرب امارات میں گزارا جبکہ کچھ عرصہ شام میں بھی رہا۔
بعض سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں قیام کے دوران اس کے نظریات میں شدت پسندی کا رجحان پیدا ہوا تاہم اس دعوے کی تمام تفصیلات آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔
تعلیم
الحَمّامی نے برطانیہ کی Buckinghamshire New University سے ایوی ایشن مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی نے واضح کیا کہ وہاں پائلٹ کی تربیت حاصل نہیں کی تھی بلکہ صرف تین سالہ فاصلاتی تعلیمی پروگرام مکمل کیا اور 2023 میں ڈگری حاصل کی۔
ایئرلائنز میں ملازمت
اس کے حذف کیے گئے LinkedIn پروفائل کے مطابق الحَمّامی نے تقریباً سات سال عمان ایئر میں کام کیا۔ اس کی ملازمت فروری 2025 تک جاری رہی۔
اس کے بعد جون 2025 میں اس نے مراکش کی قومی ایئرلائن میں کام شروع کیا اور جنوری 2026 میں وہاں سے علیحدہ ہوگیا۔ بعد ازاں وہ فلائی دبئی سے منسلک ہوا اور واقعے سے قبل تقریباً آٹھ ماہ تک وہاں کام کرتا رہا۔
عمان ایئر میں انتہاپسندی کے خدشات
امریکی ذرائع کے مطابق عمان ایئر میں کام کے دوران 2024 میں اس کے پاس مبینہ طور پر انتہاپسندانہ مواد پایا گیا جس کے بعد اسے پرواز کی تربیت سے ہٹا کر انتظامی ذمہ داری دے دی گئی۔
بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عمان میں اس پر پرواز کرنے کی پابندی بھی عائد کی گئی تھی تاہم یہ اہم تفصیل ابھی تک عمانی حکومت یا عمان ایئر کی جانب سے باضابطہ طور پر بیان نہیں کی گئی۔
کیا وہ دوہری شہریت رکھتا تھا؟
الحَمّامی کے والد عمانی اور والدہ شامی ہونے کی وجہ سے اس کی شہریت کے حوالے سے سوالات اٹھے ہیں۔ متعدد رپورٹس اسے عمانی شہری قرار دیتی ہیں۔
بعض ذرائع نے ممکنہ دوسری شہریت کا ذکر کیا ہے لیکن دیگر تحقیقاتی رپورٹس کہتی ہیں کہ همام الحمامي کے پاس دوسری شہریت نہیں تھی۔
خاندان کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
اب تک دستیاب معتبر رپورٹس میں اس کے والد اور والدہ کے بارے میں محدود معلومات ہی سامنے آئی ہیں۔ اس کے بہن بھائی، اہلیہ، بچوں یا دیگر قریبی اہل خانہ کے بارے میں قابلِ اعتماد تفصیلات عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔
سوشل میڈیا کاؤنٹس بھی تحقیقات کا حصہ
اس سے منسوب حذف شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں ایسے مواد موجود تھا جس میں اسرائیلی طیاروں کی ویڈیوز اور القاعدہ سے وابستہ شخصیات کی تصاویر شامل تھیں۔
تاہم نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ یہ واضح نہیں کہ واقعے کے بعد یہ پوسٹس خود الحَمّامی نے کیں یا پہلے سے شیڈول کی گئی تھیں۔
30 ستمبر کو کیا ہوا تھا؟
30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز میں ہونے والے واقعے کے بعد الحَمّامی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے نتیجے میں گرفتار ہوا اور بعد میں اسے متحدہ عرب امارات منتقل کردیا گیا، جہاں اس سے تفتیش جاری ہے۔
همام الحمامي نے 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے دوران کپتان پر چاقو سے حملہ کیا۔ طیارے میں 174 مسافر سوار تھے، جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی۔
واقعے کے دوران طیارہ تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آ گیا اور اسے ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ زخمی کپتان سمت مچھر نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی جس کے بعد مسافروں نے معاون پائلٹ همام الحمامي کو قابو کرکے باندھ دیا۔
دیگر پائلٹس کی مدد سے طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔ جہاں همام الحمامي کو حراست میں لیا گیا اور سعودی تفیش کے بعد گزشتہ روز اسے متحدہ عرب امارات منتقل کیا گیا تھا جہاں اماراتی اور ممکنہ طور پر اسرائیلی و امریکی تفتیش کاروں نے بھی پوچھ گچھ کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل