Loading
سرکاری نوکریوں کی خرید و فروخت اور ٹیسٹ وغیرہ کے نرخوں کی بات ہو رہی تھی خاص طور پر ایک ایسے محکمے میں جو…
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
نام اس کا ہم نہیں لے سکتے کیوں کہ یہ اچھا نہیں لگے گا… ایک لطیفے نے دم ہلائی ہے۔ کہتے ہیں کسی ملک میں ایک بادشاہ نے حکم جاری کیا تھا کہ اگر کسی نے کسی کو ’’مڈل مین‘‘ کہا تو اسے پانچ اشرفیاں جرمانہ کیا جائے گا۔
اب ہرکسی کے پاس تو پانچ اشرفیاں نہیں ہوتی تھیں لیکن بات بھی کرنی تھی، لہذا جب کسی کو ضرروت پڑتی تو وہ دوسرے سے کہتا ’’کہ ہو تو تم… لیکن میرے پاس پانچ اشرفیاں نہیں ہیں۔‘‘ ایسا ہی ایک لطیفہ پاکستان میں بھی رائج رہا ہے، ایک حکمران کے اپنے ہی حامی خلاف ہوگئے،تو ان کی پکڑاپکڑی شروع ہوگئی، مقدمات چلنے لگے تو انھوں نے اس کانام لے کر نعرے بند کردیئے اور تو صرف مردہ باد کہہ کر کام چلاتے تھے لیکن لوگ سمجھ جاتے تھے کہ کس کو کہا جارہا ہے۔
خیر یہ لطیفے ہوئے، اب حقیقوں کی طرف آتے ہیں، تو اس محفل میں سرکاری نوکریوں کے تازہ نرخوں پر بات چلی تو پہنچی کرپشن کی جوانی تک۔
علامہ بریانی عرف برڈفلو بھی تشریف فرما تھے۔ سر کے بالوں اور داڑھی کو تازہ خضاب لگائے ہوئے تسبیح پھراتے ہوئے اور سرمے سے تیز دشنہ مژگان کیے ہوئے، ان سے چشم گل چشم عرف کوئڈ نائنٹین نے پوچھا، علامہ صاحب !آپ کا بیٹا بھی تو ایک ثمربار سرکاری محکمے میں بھرتی ہوگیا ہے، وہ تو کرپشن نہیں گرے گا نا؟
علامہ نے فوراً اونچی آواز کرتے ہوئے کہا… کیوں نہیں کرے گا؟ جب ایک چیز خریدی گئی ہے تو اس کے بیچنے میں کیا قباحت… پہلے بھی تو بیچی گئی ہے تو آگے بھی بیچی جائے گی۔
ہے بیچنے کی چیز اسے بار بار بیچ
کبھی اس بازار بیچ کبھی اس بازار بیچ
قہرخداوندی کوئڈ نائنٹین نے کچھ کہنا چاہا لیکن علامہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے سائیلنٹ کیا اوربولے… اور خرید و فروخت میں منافع بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اچھا بتائو۔ تم نے اپنی بھینس کتنے میں خریدی ہے۔ ایک لاکھ میں لیکن چار سال پہلے، اب تو اسکی قیمت چار لاکھ ہے۔قہر خداوندی عرف کوئڈ نائنٹین نے جواب دیا۔ اوردودھ کتنا بیچ چکے ہو اس کا؟ علامہ نے سوال داغا۔
ہرباری میں ڈیڑھ دولاکھ کا… قہرخداوندی نے کہا ۔اور اب تک چار بار بچہ دے چکی ہے اور تم دس بارہ لاکھ کا دودھ اس سے بیچ چکے ہو، خود بھی کھا پی چکے ہو۔ علامہ نے طنز کیا۔ کوئڈ نائنٹین نے دیکھا کہ علامہ بریانی موڈ میں ہے، چہرے کو آتش فشاں کیے ہوئے… مجھے دیر ہو رہی ہے، اس نے اٹھتے ہوئے کہا، آج اسکول میں دومہینے کی چھٹی دینے اور چھٹیوں کی پیشگی فیس لینے کا دن ہے۔
وہ چلا گیا تو باقی جو دانا دانشور بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے بھی اپنے بیٹوں کے لیے نوکریاں خریدی ہوئی تھیں اور ان کے بیٹے بھی ثمربار پوسٹوں پر بیٹھ کر دکانداری شروع کر چکے تھے چنانچہ سب نے علامہ سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے قراردیا کہ خریدی ہوئی چیزوں پر منافع وصول کرنا بالکل حلال ہے، انصاف ہے، عدل ہے اور جائز کاروبار ہے، اورہم بھی ان سے متفق ہوگئے۔
جب ابتداء ہی خرید و فروخت سے ہوئی ہے تو اس میں آگے بھی خرید و فروخت ہی ہوتی رہے گی، اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ ہمارا پاکستانی معاشرہ اور نظام مکمل طور پر کمرشلائز اور انڈسٹریلائز ہوچکا ہے، قانون سے لے کر تعلیم تک، انصاف سے لے کر عدل تک اور سیاست سے لے کر جمہوریت تک… ایک پشتو کہاوت ہے کہ صاف پانی ڈھونڈوگے تو پیاسے مرجائو گے۔
پھول تو پھول ہیں اس دورہوس میں قابل
لوگ کانٹوں کوچن لاتے ہیں ویرانے سے
آپ اس ڈھیر پر لاکھ پھول پتے بچھائیں، بیانات اور اعلانات… نیچے کی گندگی، غلاظت اور بدبوئیں چھپائی نہیں جاسکتیں۔
سیدھی سی بات ہے جب بات خرید و فروخت کی شروع ہو جاتی ہے تو پھر وہ چلتی رہتی ہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ آپ کوئی رقم دے کر خریدیں، اور مفت میں دے دیں ، ہر چیز جب خریدی جاتی ہے تو آگے وہ کسی کو مفت کیسے دی جاسکتی ہے، اگر ہمارے اس کرپٹ ترین معاشرے کے کرپٹ تر صاحبان اختیار یہ سمجھتے ہیں کہ ہم فروخت کر رہے ہیں لیکن اگلا اسے مفت بانٹے گا تو… ایں خیال است و محال است و جنوں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل