Loading
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم ذمہ دارانہ انداز میں جو گنجائش نکال سکتے ہیں، نکالیں گے، مشکل ترین حالات میں اپنی جیب اور حیثیت کو دیکھتے ہوئے عام آدمی کو تحفظ دینے کے لیے جس حد تک جانا پڑے گا، جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جس جنگ نے اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، کل بھی حوثیوں نے ریاض کے پاس تیل کی تنصیبات کے قریب حملہ کیا، جبکہ کل ہی یمن میں باب المندق کے اوپر کشتیوں کی گزرگاہ پر کارروائی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مل کر کیا، پاکستان نہ صرف ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے بلکہ ترک بھائیوں کے ساتھ مل کر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ اسی پیغام کو لے کر اگلے ہفتے انہیں ریاض جانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جس طرح سعودی عرب نے تیل کی فراہمی یقینی بنائی، اس پر ان کا شکریہ ادا کریں گے۔ ہمیشہ اپنی حیثیت کے مطابق سچ کی آواز بلند کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام کی زندگی میں جو مشکلات آئیں، وزیراعظم کو ان کا احساس ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں قیمت بڑھنے کی وجہ سے قیمتیں بڑھانا پڑیں، تاہم عوام پر ایک روپیہ بھی اضافی نہیں ڈالا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سردیوں کی وجہ سے ہمارے آگے بہت بڑا چیلنج کھڑا ہوا ہے۔ وزیراعظم اور کابینہ کے اندر سردیوں میں عام صارف کو گیس فراہم کرنے کے لیے درکار اشیا پیش کردی گئی ہیں۔ اگلے دو دن میں اس حوالے سے اہم فیصلے ہوں گے، جبکہ سردیوں میں درپیش مشکلات اور چیلنجز سے وزیراعظم کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں گیس کی ساری فراہمی قطر سے ہوتی ہے، اگر اس کی سپلائی میں کوئی دقت آئی تو عوام کو مشکل پیش آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ایل پی جی کی قیمت کا تعین اوگرا کرتا ہے، صرف اس قیمت کو مقرر کرنے کے لیے سعودی عرب میں آرامکو کنٹریکٹ پرائس مقرر کرتا ہے۔ آرامکو نے قیمت 640 ڈالر سے بڑھا کر 705 ڈالر فی ٹن کردی، جس کی وجہ سے اوگرا کو سلنڈر کی قیمتیں بڑھانا پڑیں۔
انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کا وافر انتظام کرنے کے لیے جو اقدامات کرنے چاہئیں، وہ وزیراعظم کو بتا دیے ہیں۔ کابینہ کو سمری بھیج دی ہے کہ جلد از جلد باہر سے ایل پی جی منگوانے کے لیے جو اقدامات کرنے ہیں، وہ کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جو جو اقدامات لینے پڑیں گے، ان کا فیصلہ کریں گے، تب ہی عوام کو اس طوفان سے بچا سکیں گے۔ اگر ایسا نہ کیا تو آخری وقت پر نہ گیس ملے گی اور نہ کہیں اس کا جہاز ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ جادو انہیں نہیں آتا، کسی اور کو اگر کوئی جادو آتا ہے تو کرلیں۔ ہم نے اس قسم کے بیانات بہت دیکھے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور عمران خان میں صرف یہی فرق ہے کہ ایک صرف باتیں کرتا ہے اور ایک کام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان پر بھی آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے، ریاست کے مفادات کے لیے سب ایک ہوجائیں۔
انہوں نے کہا کہ آج لانگ مارچ اور ایسی چیزوں کا وقت نہیں ہے۔ اگر کوئی بھی حکومت، چاہے وہ خیبرپختونخوا کی ہو یا پنجاب کی، دہشت گردی سے لڑنے کے بجائے سیاست چمکائے گی تو ریاست کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کسی بھی وزیر یا وزیراعلیٰ سے بڑھ کر ہے۔ ہم اس حد تک قربانیاں نہیں دے سکتے جس حد تک ہمارے فوجی دے رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل