Monday, October 05, 2026
 

ایمان مزاری کیس: جج نے ڈی ایس پی کی گرفتاری کیلئے عدالت میں ہتھکڑی منگوالی

 



انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران جج نے ڈی ایس پی کی گرفتاری کیلئے ہتھکڑی منگوالی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف دوران احتجاج دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور دہشت گردی کے مقدمے میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی، عدالت نے تفتیش افسر کی غیر موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ایس پی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس ایف آئی آر میں دہشت گردی کے علاوہ تمام دفعات قابل ضمانت ہیں، عدالت نے ایمان اور ہادی کے فزیکل ریمانڈ کی استدعا بھی مسترد کی تھی، اگر عدالت تفصیلی دلائل کا کہتی ہے تو میں کر دیتا ہوں۔ تفتیش افسر کی عدم موجودگی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے ڈی ایس پی کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا۔ جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ڈی ایس پی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہتھکڑی منگوالی جبکہ سیکیورٹی انچارج کو بھی بلوالیا۔ عدالت نے پوچھا کہ کیس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ ڈی ایس پی کے انگریزی میں بات کرنے پر جج پھر برہم ہوگئے اور کہا میرے ساتھ اردو میں بات کرو۔ ڈی ایس پی نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر شہر سے باہر ہے، عدالت نے کہا کہ آپ ایسے ہی آگئے ہیں مجھے زبانی کلامی باتیں پسند نہیں، آپ کو بھی اور ایس پی کو بھی چھ ماہ کے لیے جیل بھیج دوں گا، شرم آنی چاہیے آپ لوگوں کو، بدمعاشی بنائی ہوئی ہے، ادھر کٹہرے میں الٹا منہ کرکے کھڑا کروں گا یہ کوئی طریقہ ہے۔ درست معلومات نا دینے پر عدالت ڈی ایس پی پر برہم ہوگئی، جج نے کہا کہ لائیں مجھے ثبوت دکھائیں میں ابھی چھ ماہ کے لیے آپ کو یونیفارم سمیت جیل بھیج دوں گا، پھر عدالتوں پر بات آتی ہے۔ عدالت نے کمرہ عدالت میں ہتھکڑی منگوالی اور سیکیورٹی انچاج کو حکم دیا کہ آپ ادھر کھڑے رہیں جب میں آرڈر کروں گا آپ نے اس کو جانے نہیں دینا گرفتار کر لینا ہے، گیٹ والے کو کہہ دیں یہ ڈی ایس پی باہر نا جائے۔  عدالت نے ڈی ایس پی کو کچھ وقت دیتے ہوئے سماعت میں وفقہ کر دیا۔ بعد ازاں ڈی ایس پی نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی جس میں انہوں نے بتایا کہ  تفتیش افسر گلگت بلتستان میں ہے، اُس کا نمبر بھی آف جا رہا ہے، واپسی میں دس سے پندرہ دن لگیں گے، جب تک اس سے ہمارا رابطہ نہیں ہوگا تب تک نہیں بتا سکتا۔ وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ بدنیتی دیکھیں یہ کب کی ایف آئی آر ہے، انہوں نے عدالتوں کے ساتھ مذاق بنایا ہوا ہے، کورٹ کی جانب سے ریکارڈ کا انتظار کرنا ضروری نہیں، یہ ضمانت کا کیس ہے قابل ضمانت دفعات لگی ہوئی ہیں، عدالت نے آج کا وقت دیا تھا۔ جج ابو الحسنات نے کہا کہ تفصیلی آرڈر لکھواتا ہوں، تفتیشی کی عدم دستیابی کے حوالے سے بھی حکم کرتا ہوں، عدالت نے کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل