Loading
وزیر داخلہ محسن نقوی تسلسل کے ساتھ حکومت کے نظام سمیت ادارہ جاتی سطح پر مسائل کے حل کی تجویز پیش کررہے ہیں۔ان کی تجویز میں ایک بنیادی نقطہ نئے صوبوں کی تشکیل،نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار مقامی حکومتوں کا ماڈل ہے۔یہ بحث کسی ایک شخص تک محدود نہیں رہی بلکہ علمی ،فکری اور سیاسی حلقوں میں اسی نقطہ کی حمایت اور مخالفت پر بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔
گورننس کی اصلاح میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں پر زور دیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے گورننس کو بنیادی یعنی مقامی سطح پر عوام کے قریب لانا ہوگا۔ ابھی تک اس بیانیہ کو دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا وہ مثبت رسپانس نہیں ملا جو سامنے آنا چاہیے تھا۔ان دونوں بڑی جماعتوں نے نئے صوبوں کی تشکیل یا نئے انتظامی یونٹس کی حمایت نہیں کی اور ان کے بقول اول تو اس طرز کی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں اور دوئم اس طرح کی تبدیلیوں سے نظام کی اصلاح سے زیادہ بگاڑ دیکھنے کو ملے گا۔ایک تجزیہ یہ بھی کہ بڑی سیاسی جماعتیں اس طرز کی تبدیلی کو اپنے لیے ایک بڑا سیاسی خطرہ سمجھتی ہے اور سمجھتی ہیں کہ اس کھیل کا مقصد ان کی سیاسی طاقت کو کمزور کرنا ہے۔یہ ہی وجہ ہے نظام کی تبدیلی یا اسے ری سیٹ کرنے کی باتیں بڑی سیاسی جماعتوں یا پارلیمنٹ کے مقابلے میں دیگر اطراف سے سننے کو مل رہی ہیںجو فریقین میں موجود باہمی ٹکراؤ کو پیدا کرتا ہے۔
اگر آپ نے حکومتی نظام کو واقعی سنجیدگی اور دیانت داری سے ری سیٹ کرنا ہے تو پہلے ایک بات سمجھنی ہوگی کہ نئے صوبہ یا نئے انتظامی یونٹ ری سیٹ کا ایک نقطہ ہے۔ لیکن جیسے ہم اس وقت اپنا حکومتی نظام چلارہے ہیں اور جو طرز عمل ہم نے مجموعی طور پر اختیار کیا ہوا ہے یہ نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے باوجود تبدیلی ممکن نہیں ہوسکے گی۔ہمیں حکومت کے نظام کو ری سیٹ کرنے کے بارے میں کسی ایک یا دونقطوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک بڑے فریم ورک میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ نظام کی اصلاح کے لیے اور سب اداروں اور افراد کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔یقیناً پہلی ترجیح میں خود مختار مقامی حکومتوں کا نظام ہے جس کے ذریعے صوبائی حکومتوں کی بے جا مداخلتوں کو روک کرگورننس کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔
دوسرا مسئلہ ہمارے سیاسی نظام میں موجود اصلاحات کا ہے۔اس نظام میں پارلیمنٹ نہ تو کسی سطح پر جوابدہ ہے اور نہ یہ اپنے داخلی نظام کے اندر بڑی فعالیت رکھتی ہے ۔ بہت سے اہم اور حساس نوعیت کے فیصلے پارلیمنٹ اور ارکان پارلیمنٹ سے باہر کیے جاتے ہیں۔یہاں تک وفاقی ورزا،مشیر اور اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارکردگی پر بھی بہت سے اہم سوالات ہیں جن کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ اس لیے جب ملک میں پارلیمانی نظام کی مضبوطی کی بات کی جاتی ہے تو ہمارا سیاسی اور جمہوری طرز عمل اس میں رکاوٹ بنتا ہے۔وزرا اور مشیروں کی تعداد عمومی طورپر 100سے زیادہ ہوتی ہے اور ان عہدوں کی بنیاد پر جو مراعات ملتی ہیں اس کا مداوا کیسے ہوگا۔ جس طرح ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نظام میں شاہانہ طرز عمل ہے اس کا سدباب کیسے ہوسکتا ہے۔جب ہمارا سیاسی نظام خود اپنے داخلی نظام میں اصلاح کے لیے تیار نہیں ہے تو پھر کیسے نظام کی اصلاح ہوسکتی ہے۔
پاکستان کو مختلف عالمی مالیاتی ادارے اور گورننس سے جڑے عالمی تھنک ٹینک کی جو رپورٹس آتی ہیں اور اس میں پاکستان کے حالات کا جو تجزیہ اور تجاویز دی جاتی ہیں ان میں یہ چند پہلو اہم نوعیت رکھتے ہیں۔اول گورننس کے نظام کی اصلاح،دوئم بیوروکریسی میں جامع طرز کی اصلاحات اور ان کو قومی خزانے سے دی جانے والی بے جا مراعات کا خاتمہ،سوئم، عدلیہ کی خود مختاری و انصاف کے نظام میں شفافیت کے لیے بنیادی تبدیلیاں،چہارم ، گورننس کے نظام کے موجود ڈھانچوں کو کم کرنا،پنجم، داخلی معیشت کو مضبوط کرنا اور معیشت میں پھیلی ہوئی محرومی اور خلیج کی سیاست،ششم احتساب،جوابدہی اور شفافیت پر مبنی نظام،اداروں کی مضبوطی اور ہفتم عام و کمزور آدمی کے مفادات کو تحفظ اوران کی حمایت میں بننے والی قانون سازی اور پالیسیوں ،عملدرآمد اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر توجہ دینی ہوگی۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم فروحی اصلاحات پر توجہ دیتے ہیں یابڑے بڑے نعرے لگاتے ہیںمگر نظام کی تبدیلی کا کسی بھی قسم کا واضح ایجنڈا ہمارے پاس نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام سمیت پارلیمنٹ میں نظام کو ری سیٹ کرنے پر کوئی بحث نہیں ہوتی اور نہ ہی بیشتر جماعتوں کے پاس ایسے داخلی تھنک ٹینک موجود ہیں جن سے یہ سیکھ کر آگے بڑھ سکیں۔اسی طرح عالمی اور ملکی سطح پر جو موجود تھنک ٹینک ان سے سیاسی جماعتیں کسی بھی سطح پر استفادہ حاصل نہیں کرتیں۔جب ملک میں مضبوط بنیادوں پر نظام کی ری سیٹ کی بحث ہی نہ ہو اور جو لوگ کررہے ہیں ان کے خود اپنے ذاتی مفادات ہوں تو پھر بات کیسے آگے بڑھ سکتی ہے۔کیونکہ جب ایک مخصوص ایجنڈے کے ساتھ نظام کی ری سیٹ کی بات کی جاتی ہے جس میں نظام سے زیادہ کسی اور کے مفادات ہو تو پھر اس طرح کی بحثیں اپنی ساکھ قائم نہیں رکھ سکتیں۔
آپ کو مجموعی طور پر نہ نظام کا تجزیہ کرنا ہے بلکہ اب تک اختیار کی جانے والی غلطیوں سے بھی سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔نظام کی ری سیٹ ایک مخصوص طاقت ور طبقات یا طبقاتی نظام کی عکاسی نہ کرے بلکہ اس کا تعلق مجموعی ریاستی اور عوامی مفادات سے ہونا چاہیے۔کیونکہ آج تک ہم نظام کی تبدیلی اور ری سیٹ کو بڑے طاقت ور افراد کی بنیاد پر دیکھتے ہیں جو لوگوں میں موجود نظام کے اعتماد کو مجروع کرتا ہے۔ اس نظام میں رہنے والے غریب اور کمزور لوگ کاکروچ نہیں اور جب کچھ وزرا نئی نسل میں موجود غصہ یا اس کے ردعمل کو کاکروچ کی بنیاد پر کچلنے کی بات کرتے ہیں تو لوگوں کا نظام کے خلاف ہونا فطری امر ہوگا۔
جب ہم نظام کی ری سیٹ کی بات کرتے ہیں تو کیا ہم نے دنیا کے جدید ماڈل جنہوں نے پرانے نظام سے نکل کو خود کو بہتری میں تبدیل کیا یا ری سیٹ کیاان کا مطالعہ اور مشاہدہ کیا۔مجھے نہیں لگتا ہماری سیاسی قیادتوں نے کچھ سیکھا ہو یہ چین کی ترقی کے دعوے اور ان سے سیکھنے کی عملی باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر جب عملدرآمد کی بات آتی ہے تو یہ پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔اس لیے اگر واقعی ہم نے مجموعی طور پر نظام کو ری سیٹ کرنا ہے توپہلے اپنے موجودہ طرز عمل سے جان چھڑانی ہوگی اور اس سماج اور اس سے جڑے تعلیمی نظام اور جامعات کو نالج بیسڈ،عملی طور پر منڈی سے جڑی صلاحیتوں اور ان کے طرز عمل میں تیزی سے آتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا سے جوڑنا ہوگا۔
ہم جس نظام کی تبدیلی اور ری وزٹ کی باتیں سوچ رہے ہیں یا جن سے توقعات لگا رہے ہیں وہ خود بھی اس نظام کی حقیقی سطح کی تبدیلی میں رکاوٹ ہیں۔کیونکہ جب سیاسی جماعتیں اور بالخصوص بڑی جماعتیں یہ کہتی ہیں کہ مسائل کا حل باہر بیٹھے لوگوں کے پاس نہیں بلکہ یہ کام عوام کے منتخب نمائندوں اور پارلیمنٹ کا ہے اور اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پاکستان کو واقعی ری سیٹ کرنا ہے مگر یہ کیسے ہوگا اور کون کرے گا یا بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا یہ سوالات مبہم ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل