Monday, October 05, 2026
 

جب سچ کو بھی شناختی کارڈ درکار ہوگا

 



فرض کیجیے، کل صبح آپ کی آنکھ کھلتی ہے اور آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کی ایک ویڈیو پورے پاکستان، بلکہ شاید پوری دنیا میں وائرل ہو چکی ہے۔ اس ویڈیو میں آپ بالکل اپنے لب و لہجے، اپنی مخصوص جسمانی حرکات، اور اپنی ہی جانی پہچانی آواز میں کوئی ایسی خوفناک، متنازع بات کہہ رہے ہیں جو آپ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی نہیں کہی یا شاید آپ اسکرین پر کچھ ایسا کر رہے ہیں جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آپ کے دوست، رشتے دار، اور کروڑوں انجان لوگ اس پر تبصرے کر رہے ہیں، برا بھلا کہہ رہے ہیں یا آپ کی تضحیک کر رہے ہیں۔ آپ کی پوری زندگی کی کمائی ہوئی عزت چند گھنٹوں میں خاک میں مل چکی ہے۔ آپ گھبرا کر چیختے ہیں، دہائیاں دیتے ہیں۔ ’’یہ میں نہیں ہوں، خدا کی قسم یہ جھوٹ ہے، یہ میری ویڈیو نہیں ہے۔‘‘ سامنے سے ایک سرد، بے رحم اور طنزیہ آواز آتی ہے۔ ’’ثابت کیجیے۔‘‘ اور شاید، یہیں سے اکیسویں صدی کے سب سے عجیب اور پیچیدہ مقدمے کا آغاز ہوگا۔ ایک ایسا مقدمہ جہاں ملزم بھی انسان ہے، گواہ بھی انسان ہے، کٹہرے میں کھڑے لوگ بھی گوشت پوست کے ہیں، مگر سب سے طاقتور شہادت ایک ایسی اسکرین پر چلتی ہوئی ویڈیو ہے جس پر اب اعتبار کیا جا سکتا ہے نہ ہی اسے مکمل طور پر جھٹلانا کسی اکیلے انسان کے بس میں رہا ہے۔ دوستو!یہ محض کسی سائنس فکشن فلم کا کوئی منظر یا کوئی ڈراؤنا خواب نہیں ہے، بلکہ اس دنیا کی وہ ٹھوس اور تلخ حقیقت بننے جا رہا ہے جس کی دہلیز پر ہم اپنے دونوں قدم رکھ چکے ہیں۔ میں نے اپنے پچھلے کالم ’’میرا فیڈ، میری مرضی: ڈیجیٹل سامراجیت‘‘میں ایک نہایت اہم تصور کی طرف اشارہ کیا تھا جسے ماہرین سماجیات و ٹیکنالوجی ’’جھوٹے کا منافع‘‘ (لائرز ڈویڈنڈ) کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہر طرف ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت کے کمالات بکھرے ہوں، تو ایک سچا انسان اپنی سچائی اور بے گناہی ثابت کرنے میں خوار و رسوا ہو جاتا ہے، مگر اس کے برعکس، ایک جھوٹا، شاطر اور مجرم انسان اپنے خلاف آنے والے ہر اصلی اور مستند ثبوت کو بھی یہ کہہ کر مسکرا کر مسترد کر دیتا ہے کہ ’’یہ تو اے آئی کا کمال ہے، یہ سازش ہے، یہ ویڈیو ڈیپ فیک ہے‘‘ یوں ٹیکنالوجی سچ کو مشکوک بنا کر دراصل جھوٹے کو منافع بخش رہی ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ’’اے آئی انڈیکس ‘‘ 2026 کی تازہ ترین رپورٹ واضح کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں اب محض لیبارٹریوں کا کھلونا نہیں رہیں ، بلکہ اس کا معاشرتی اثر تاریخ کے کسی بھی دور کی ٹیکنالوجی سے زیادہ نمایاں اور تباہ کن ہو چکا ہے۔ 2026 کا اے آئی اب صرف کالم،مضامین یا تحریریں نہیں لکھتا، بلکہ یہ انسانی جذبات، آواز کی لرزش، چہرے کی باریک ترین حرکات اور آنکھوں کی نمی تک کو اس بے عیب اور خوفناک انداز میں نقل کر سکتا ہے کہ حقیقت اور فریب کے درمیان کھنچی ہوئی آخری لکیر بھی مٹ جائے۔ دھوکہ دہی اب معمول کا حصہ بن چکی ہے، پہلے جعلی ثبوت بنانے کے لیے بڑی مہارت، سرمائے اور اسٹوڈیوز کی ضرورت ہوتی تھی، آج یہ کام ایک اسمارٹ فون پر محض ایک کلک کی دوری پر ہے۔ اس ٹیکنالوجیکل یلغار نے ہمیں ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں انسانیت کا ایک بنیادی فلسفیانہ بحران جنم لے رہا ہے۔ ذرا غور کیجیے، پچھلی کئی صدیوں سے انسانی تاریخ، تہذیب، قانون اور معاشرے کا بنیادی مسئلہ ایک ہی رہا تھا، جھوٹ کے وسیع انبار میں سے سچ کو کیسے تلاش کیا جائے؟ قانون اور نظامِ انصاف کا سب سے پرانا، سب سے کڑا سوال یہی ہوتا تھا۔ ’’ثبوت کہاں ہے؟‘‘ لیکن مصنوعی ذہانت کے اس سیلاب بلا خیز کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ آج اور کل کا مسئلہ یہ نہیں کہ جھوٹ کو سچ سے کیسے الگ کیا جائے، بلکہ آنے والا ہولناک مسئلہ یہ ہے کہ سچ آخر کیسے ثابت کرے گا کہ وہ واقعی سچ ہے؟ اب عدالتوں، میڈیا، اور عوامی کچہریوں میں سوال یہ نہیں ہوگا کہ ’’ثبوت کہاں ہے؟‘‘بلکہ اے آئی کے بعد کا سب سے بڑا سوال یہ بننے جا رہا ہے۔’’ثبوت اصلی ہے، اس کا ثبوت کہاں ہے؟‘‘  یہ ایک ایسا جملہ ہے جو ہمارے پورے سماجی ڈھانچے اور نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ سکتا ہے۔ انسان نے صدیوں سے تصویر اور آواز کو سچ کا سب سے بڑا اور حتمی استعارہ سمجھا۔ کیمرے کی ایجاد نے ’’جو آنکھ دیکھ لے، وہی سچ ہے ‘‘ کے محاورے کو قانون کا درجہ دے دیا۔ مگر آج، جب کیمرے کے لینز اور کمپیوٹر کے پکسلز حقیقت کی عکاسی کرنے کے بجائے الگورتھم کی مرضی کے غلام بن چکے ہیں، تو آنکھ اور کان کا اعتبار بھی ختم ہو گیا ہے۔ یہ وہ دور ہے جسے اصلیت کا بحران کہا جا رہا ہے۔ نقصان ہو جانے کے بعد اگر فرانزک لیبارٹری ہفتوں یا مہینوں بعد یہ حتمی رپورٹ دے بھی دے کہ ثبوت سو فی صد جعلی تھا، ڈیپ فیک تھا، تو اس وقت تک کیا بچے گا؟ سیاست دان کا کیریئر اور ساکھ راکھ ہو چکی ہوگی، عدالت کسی بے گناہ کو سزائے موت سنا چکی ہوگی، کسی صحافی کی زندگی اجڑ چکی ہوگی، ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والے انتخاب کے نتائج ہائی جیک ہو چکے ہوں گے اور وہ بے گناہ لڑکی یا لڑکا منوں مٹی تلے موت کی نیند سلایا جا چکا ہوگا۔ جھوٹ اپنا کام کر کے منزل پا لے گا اور سچ ساری زندگی اپنی صفائیاں پیش کرتا رہ جائے گا۔ یہاں وہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے جو ہم میں سے ہر شخص کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے، اگر معاشرے میں پیش کیا جانے والا ہر ثبوت قابل تردید ہو جائے تو انصاف کس چیز پر کھڑا ہوگا؟ عدل کا پورا نظام شہادتوں، ٹھوس ثبوتوں اور گواہیوں کی بنیاد پر چلتا ہے۔ جب آواز کی لہروں، دستاویزات کی سیاہی اور ویڈیو کے فریمز پر اعتبار ہی صفر ہو جائے گا، تو منصف کس بنیاد پر فیصلہ کرے گا؟ کیا ہم قانون کی دنیا میں دوبارہ اس تاریک دور میں واپس جا رہے ہیں جہاں صرف چشم دید گواہ کی قسم ہی واحد ثبوت مانی جاتی تھی؟انٹرنیٹ نے ہمیں معلومات کے لامتناہی سمندر میں غرق کیا تھا اور اب مصنوعی ذہانت اس سمندر کے ہر قطرے میں فریب کا زہر گھول رہی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لینے جا رہے ہیں جہاں ہر بات مشکوک ہوگی، ہر منظر قابل شک ہوگا اور ہر آواز سراب لگے گی۔ یہ بے یقینی کا وہ دائمی عذاب ہے جو کسی بھی معاشرے کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ سکتا ہے۔ جب سچ کو اپنا وجود منوانے، اپنی اصلیت اور اپنی پاکیزگی ثابت کرنے کے لیے کسی مشین کے سرٹیفکیٹ اور ڈیجیٹل شناختی کارڈ کی ضرورت پڑ جائے، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ انسان اپنے ہی بنائے ہوئے کھلونوں سے ہار چکا ہے۔ کل تک ہماری جنگ جھوٹ کو مٹانے کی تھی، مگر آنے والی صدی کی سب سے بڑی جنگ محض سچ کو زندہ رکھنے کی جنگ ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل