Loading
یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج اور حوثی ملیشیا کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے جبکہ یمنی سرکاری فورسز نے تعز میں کارروائیوں کے دوران تقریباً 250 حوثی جنگجوؤں کو ہلاک و زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی فوج کے تعز محور کے میڈیا مرکز کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف محاذوں پر کارروائیوں میں تقریباً 100 حوثی جنگجو ہلاک اور 150 زخمی ہوئے جب کہ درجنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’فجر الیمن‘‘ آپریشن کے تحت تعز شہر کے شمال، جنوب اور مغربی علاقوں میں کارروائی کی گئی جس میں حوثیوں کی متعدد گاڑیاں اور فوجی سازوسامان بھی تباہ کردیے گئے۔
سعودی اتحادی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ حدیدہ میں حوثیوں کے اسلحہ ذخائر، دھماکا خیز مواد سے لدی کشتیوں کے گودام اور بحری سرنگوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان جنرل ترکی المالکی کا مزید کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد جنوبی بحیرہ احمر اور باب المندب میں ممکنہ حوثی حملوں کو روکنا تھا۔
اتحادی افواج نے صنعا میں بیلسٹک میزائل داغنے کا ایک پلیٹ فارم اور صعدہ میں میزائلوں کے ایک ذخیرے کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صعدہ کے پہاڑی مقام پر موجود ذخیرے میں 20 بیلسٹک میزائل تھے۔
حوثیوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب کے ریاض میں کنگ خالد ایئرپورٹ، ایک تیل تنصیب اور خمیس مشیط کے فوجی اڈے سمیت عسیر، نجران اور جازان میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی سول ایوی ایشن حکام کے مطابق جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر گزشتہ شب حملوں میں 3 افراد معمولی زخمی ہوئے جبکہ تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
یہ تازہ لڑائی ایسے وقت میں شدت اختیار کرگئی ہے جب سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے باب المندب اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر رکھی ہے، جس سے خطے کی اہم تجارتی آبی گزرگاہ کی سلامتی ایک بار پھر عالمی تشویش کا مرکز بن گئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل