Loading
جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے اعلیٰ حلقوں کی مداخلت پر سرکاری لاء کالجوں کے امتحانی نتائج میں بے قاعدگیوں اور رد و بدل کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ناظم امتحانات ڈاکٹر محمد یاسر خان کو عہدے سے ہٹادیا اور انھیں ان کے شعبے میں تدریس کے لیے واپس بھجوادیا گیا ہے جبکہ وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسر کو ہٹاکر ان کی جگہ ڈاکٹر غفران سعید کو ناظم امتحانات مقرر کردیا گیا جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے ڈاکٹر غفران سعید کا تعلق شعبہ فوڈ اینڈ سائنس سے ہے۔
یاد رہے ہہ ایکسپریس میڈیا گروپ نے لاء کالجوں کے فیل طلبا کو پاس کرنے کا یہ راز افشا کیا تھا ادھر تاحال معاملہ کی انکوائری کے لیے کوئی کمیٹی قائم نہیں ہوسکی اور نتائج میں رد و بدل کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز نہیں ہوسکا ہے جس سے امتحانی نتائج میں رد و بدل کے ثبوت ضائع ہونے کے خدشات تاحال موجود ہیں۔ معاملہ سامنے آنے پر پورے ملک اور بیرونی دنیا میں اس پر چہ مہ گوئیاں ہورہی ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ نئے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی نے امتحانی کاپیاں خود منگوا کر دیکھیں تو اکثر آنسر شیٹس خالی تھیں اور ان پر مارکس دیے گئے تھے واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات نے رئیس کلیہ قانون کی سفارش اور سبکدوش قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد کی منظوری سے 150 سے زائد قانون کے طلبا کو پاس کیا تھا متعلقہ تقریبا ڈیڑھ سو طلبا امتحانی کاپیوں اور جاری کردہ نتائج میں فیل تھے بڑی تعداد میں فیل طلبا کو فرضی اسکروٹنی کمیٹی بناکر پاس کیا گیا تھا۔ فیل امیدوار بی اے-ایل یل بی ایس ایم لاء اور اسلامیہ کالج کے طالب علم تھے۔
ایکسپریس نیوز نے پاس کیے گئے فیل طلبا کی امتحانی کاپیوں کا عکس، فیل/پاس مارکس شیٹس اور ایوارڈ شیٹ حاصل کرکے خبر نشر کی تھی جس کے مطابق ڈین لاء نے متعلقہ کالجوں کے پرنسپلز کے ہمراہ فرضی اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس کیا اور اجلاس کی روداد قائم مقام وائس چانسلر سے منظوری کرانے کے بعد برطرف ناظم امتحانات نے نتائج تبدیل کیے تھے۔
تاہم، ڈین لاء اور پرنسپل ایس ایم لاء کالج اس معاملے کو قانونی قرار دیتے رہے نتائج میں تبدیلی کی اس داستان نے نئے وائس چانسلر کے لیے چیلنج کھڑے کردیے ہیں ایل ایل بی میں بڑی تعداد میں طلبا ایسے تھے جو اوبلیگیشن اور مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں صفر یا کم مارکس کے ساتھ فیل تھے فرضی اسکروٹنی کراکے انھیں 50 سے 65 کے درمیان مارکس دے کر پاس کیا گیا تھا۔
ایل ایل بی کے نتائج کے اجراء کے بعد شعبہ امتحانات نے طلبا کو پہلے فیل جبکہ اسکروٹنی کے بعد پاس کی مارک شیٹس جاری کیں تھیں۔
رئیس کلیہ قانون، متعلقہ دونوں لاء کالجوں اور ناظم امتحانات پر مشتمل ایک اسکروٹنی کمیٹی از خود ہی قائم ہوگئی تھی۔ اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس 5 اگست کو رئیس کلیہ قانون کی صدارت میں ہوا تھا۔ اجلاس میں ایل ایل بی پارٹ ٹو کے پیپر 5 کی جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی قانون میں امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کی گنجائش نہیں ہے۔
6 اگست کو فرضی اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری برطرف ناظم امتحانات نے قائم مقام وائس چانسلر سے لی تھی۔
وائس چانسلر سے منظوری میں دیگر متعلقہ کیسز کی اصطلاح شامل کرکے مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں بھی فیل طلبا کو پاس کیا گیا تھا۔
وائس چانسلر سے منظوری ملتے ہی 6 اگست کو ہی ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل کی جانب سے طلبا کو اسکروٹنی اپلائی کرنے کو کہا تھا۔ برطرف ناظم امتحانات نے اطلاع کو غلط قرار دیا تھا۔ ڈین رئیس کلیہ کی جانب سے نتائج تبدیل کرنے کو قانونی قرار دے کر رزلٹ میں رد و بدل کی تصدیق کی گئی تھی۔
امتحانی ماہرین کے مطابق سالانہ سسٹم کی اسکروٹنی میں صرف ری کائونٹنگ کی گنجائش ہے ری اسسمنٹ نہیں ہوتی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل