Friday, October 09, 2026
 

نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ٹرمپ خفا؛ فاتح خاتون جج کو امریکی دشمن قرار دیدیا

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2026 کا نوبیل امن انعام نہ ملنے کے بعد انعام جیتنے والی جنوبی افریقی قانون دان ناوی پلے کو امریکا اور اسرائیل کا دشمن قرار دینے والی تنقید دوبارہ شیئر کردی۔ بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں نوبیل کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ ناوی پلے کو انعام دے کر کمیٹی نے خود کو بدنام کیا اور امن انعام کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ناوی پلے پر الزام عائد کیا کہ عالمی فوجداری عدالت کی مذکورہ جج نے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات پر مبنی تحقیقات کی حمایت کی، حماس کو فائدہ پہنچایا اور امریکا و اسرائیل مخالف رویہ اختیار کیا۔ پوسٹ میں صدر ٹرمپ کے اقدامات، خصوصاً ابراہیم معاہدوں، یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں اور روس یوکرین جنگ ختم کرانے کی کوششوں کو امن انعام کے زیادہ موزوں مستحق اقدامات قرار دیا گیا۔ یاد رہے کہ نوبیل کمیٹی نے آج امن انعام کے لیے افریقی خاتون جج ناوی پلے کے نام کا اعلان کیا ہے جو عالمی فوجداری عدالت میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انھیں یہ انعام امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے کوششوں پر دیا گیا۔ ناوی پلے کو نوبیل انعام دینے کا اعلان کرتے ہوئے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ خاتون جج نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مرتکب افراد کے احتساب کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 85 سالہ ناوی پلے بھارتی تامل نسل سے تعلق رکھنے والی جنوبی افریقی قانون دان ہیں۔ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج اور اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہ چکی ہیں۔ یاد رہے کہ اپنی وکالت کے ابتدائی دور میں ناوی پلے نے بطور وکیل نیلسن منڈیلا اور نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والے دیگر کارکنوں کی وکالت بھی کی۔ واضح رہے کہ نوبیل کے امن انعام کی مالیت ایک کروڑ 20 لاکھ سویڈش کراؤن، یعنی تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر ہے جو 10 دسمبر کو اوسلو میں پیش کیا جائے گا جب کہ آج صرف اعلان کیا گیا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل