Loading
متحدہ عرب امارات نے تصدیق کی ہے کہ فلائی دبئی کے عمانی معاون پائلٹ ھمام الحمامی نے دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کو اغوا کرکے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ کے ٹرمینل سے ٹکرانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے بتایا کہ معاون پائلٹ نے 30 ستمبر کو پرواز کے دوران منصوبے پر عمل کرنے کی کوشش کی تھی۔
اماراتی حکام نے بتایا کہ ملزم یہ مبینہ خودکش حملہ 11 ستمبر 2001 کے امریکا پر حملوں سے متاثر ہوکر کرنا چاہتا تھا تاہم دوسرے پائلٹ اور بعض مسافروں نے منصوبہ ناکام بنا دیا۔
اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ گرفتار معاون پائلٹ نے اس سے قبل تل ابیب کی دو پروازوں میں سفر کرکے پرواز کے راستوں اور ہوائی اڈے سے واقفیت حاصل کی تھی۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ھمام الحمامی نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ اس نے خود ہی منصوبہ بنایا اور اکیلا ہی کام کر رہا تھا۔
تاہم اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ملزم کے بیان کے برعکس تفتیش کار اس کے ممکنہ ساتھیوں یا معاونین کے کردار کا پتا لگانے کے لیے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ملزم ماضی میں بھی مختلف ممالک کی متعدد فضائی کمپنیوں میں کام کرچکا تھا جن میں عمان ایئر اور رائل ایئر ماروک بھی شامل ہیں۔ وہ جنوری 2026 میں فلائی دبئی سے وابستہ ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شن بیت کے اہلکار بھی پائلٹ سے تفتیش میں حصہ لینے کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچے تھے۔
واضح رہے کہ اس واقعے سے متعلق کئی تفصیلات پہلے ہی اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں سامنے آچکی تھیں تاہم اماراتی حکام کا تازہ بیان پہلی مرتبہ اس بات کی باضابطہ تصدیق قرار دیا گیا ہے کہ مبینہ منصوبے کا ہدف اسرائیل کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل