Loading
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بجلی کا کرنٹ لگنے سے دونوں ہاتھ گنوانے والی 9 سالہ بچی لُبابہ کے علاج و بحالی سے متعلق صدرِ پاکستان کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
عدالت نے پیسکو کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا، جس میں متاثرہ بچی کے علاج اور مصنوعی اعضا کی فراہمی سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ پیسکو متاثرہ بچی کا طبی معائنہ راولپنڈی میں قائم آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن سے کروائے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ جدید مصنوعی اعضا کی فراہمی، ضروری علاج اور بحالی کے تمام اخراجات بجلی کی تقسیم کار کمپنی برداشت کرے گی۔ بچی کی طبی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری بھی پیسکو پر عائد ہوگی۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر بچی کے لیے ضروری علاج یا جدید مصنوعی سہولت پاکستان میں دستیاب نہ ہو تو پیسکو بیرونِ ملک علاج کے اخراجات بھی ادا کرنے کی پابند ہوگی۔ عدالت نے قرار دیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا فرض صرف بلا تعطل بجلی فراہم کرنا نہیں بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ اور حفاظتی تقاضوں کی تکمیل بھی ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق جولائی 2021 میں خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے پیر قلعہ میں 11 کے وی کی بجلی کی لائن گرنے سے بچی لُبابہ شدید جھلس گئی تھی۔ اس حادثے میں اسے سنگین جسمانی نقصان پہنچا اور دونوں ہاتھ کاٹنے پڑے۔ حادثے کے نتیجے میں بچی مستقل معذوری کا شکار ہوگئی، جس کے بعد اس کے اہل خانہ نے قانونی چارہ جوئی شروع کی۔
متاثرہ بچی کے لواحقین نے علاج اور معاوضے کے حصول کے لیے وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا۔ وفاقی محتسب نے ابتدائی طور پر ان کی شکایت منظور کر لی، تاہم بعد میں نظرثانی اپیل کے دوران فیصلہ تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد معاملہ صدرِ پاکستان کے سامنے پہنچا، جنہوں نے 30 اکتوبر 2025 کو بچی کے حق میں فیصلہ جاری کیا تھا۔
صدرِ پاکستان نے اپنے فیصلے میں پیسکو کو متاثرہ بچی کے علاج اور مصنوعی اعضا کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔
بعد ازاں پیسکو نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم عدالت نے کمپنی کی درخواست خارج کر دی۔ اس مقدمے میں وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ضمیر الدین نے پیروی کی اور صدارتی فیصلہ برقرار رہا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل