Loading
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روز زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد ایئرپورٹ کی سکیورٹی اور فضائی آپریشنز سے متعلق تشویش بڑھ گئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دھماکے کی اطلاع عینی شاہد اور معاملے سے باخبر افراد نے دی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کو 2 علاقائی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واقعے کے بعد ایئرپورٹ خالی کرایا گیا اور فضائی ٹریفک روک دی گئی۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ کرکے پرواز کی تازہ صورتحال کی تصدیق کریں۔
دھماکے کی حتمی وجہ اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب رواں ہفتے ریاض ایئرپورٹ پر حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق جمعرات کو ہونے والے دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ سعودی ایئرلائن کے ایک طیارے کو بھی نقصان پہنچا۔
حوثی گروپ نے اس سے قبل ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
دوسری جانب، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے 9 اکتوبر کو بتایا تھا کہ سعودی عرب کے لیے پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں، تاہم پی آئی اے نے ریاض کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل کی تھیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل