Sunday, October 11, 2026
 

ایران کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش، امریکی فوج نے تجارتی جہاز ناکارہ بنا دیا

 



واشنگٹن: امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج عمان میں ایک تجارتی مال بردار جہاز کو کارروائی کے دوران ناکارہ بنا دیا، کیونکہ جہاز کے عملے نے مبینہ طور پر انتباہات نظرانداز کرتے ہوئے ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تھی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ پاناما کے پرچم تلے سفر کرنے والے مال بردار جہاز ایم وی اوشن مولیکا کو امریکی لڑاکا طیارے نے نشانہ بنایا۔ اس جہاز کو ’’اریکا سن‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق امریکی طیارے نے جہاز کے پچھلے حصے پر درست نشانہ لگانے والا گولہ بارود استعمال کیا، جس سے جہاز کا نظامِ حرکت مکمل طور پر ناکارہ ہوگیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں جہاز کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی حکام کے مطابق جہاز ایرانی بندرگاہ سے روانہ ہونے کے بعد علاقائی پانیوں سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم عملے نے بار بار دی جانے والی وارننگز پر عمل نہیں کیا۔ رائٹرز فوری طور پر جہاز چلانے والی کمپنی سے رابطہ کرکے امریکی دعوے پر اس کا مؤقف حاصل نہیں کرسکا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب موجود بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بحری ناکہ بندی سے متعلق ہدایات پر عمل کریں، سمندری جہازرانی کے لیے جاری کیے جانے والے انتباہی پیغامات پر نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر امریکی بحری افواج سے رابطہ کریں۔ U.S. Forces Disable Cargo Vessel Attempting to Violate Blockade TAMPA, Fla. — U.S. Central Command (CENTCOM) forces disabled a commercial cargo vessel in the Gulf of Oman, Oct. 10, after the ship’s crew ignored repeated warnings and attempted to run the ongoing naval blockade… pic.twitter.com/qBKcU6gWqR — U.S. Central Command (@CENTCOM) October 11, 2026 یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران کے خلاف بحری پابندیوں اور خطے میں بحری آمدورفت کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ تاہم، جہاز کو ناکارہ بنانے سے متعلق تفصیلات فی الحال امریکی فوج کے بیان پر مبنی ہیں اور واقعے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل