Sunday, October 11, 2026
 

دھرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں کے میں دہشت گردی ہمارا ایشو ہے، محسن نقوی

 



وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دھرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہمارا ایشو صرف دہشت گردی ہے، دھرنے کو موخر کرنے والی شرط پیپلز پارٹی کی تھی ہم نے کبھی نہیں کہا کہ دھرنا ختم کریں۔ یہ بات وفاقی وزرا اعظم نذیر تاڑر ، محسن نقوی، عطا تاڑر اور دیگر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کو استعمال کرتے ہوئے ایمرجنسی کا اعلان کیا، کیا حالات تھے جن کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا، یہ وزیرداخلہ آپ کو بتائیں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آج کا دن آسان دن نہیں تھا، ایک ماہ سے مسلسل کوشش کرتے رہے کہ کے پی حکومت کو آن بورڈ کرسکیں، بیک گرؤانڈ میں خود کے پی حکومت سے رابطے میں تھا، لانگ مارچ کے لیے جو باتیں کیں وہ ہو رہی تھیں ملاقاتیں اور دیگر معامالات چل رہے تھے، وزیراعظم نے نیویارک کے لیے 17ستمبر کو نکلنا تھا، یہ طے ہوا کہ کہ وہ جانے سے قبل اپوزیشن سے ملیں گے، ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا، پندرہ یا سولہ اکتوبر کو ملاقات ہونی تھی، مگر کوئی جواب نہ ملا، پھر بھی رابطہ رہا صدر اور وزیراعظم کی ملاقات ہوئی میں نے کہا کہ آپ کے پی حکومت کو آن بورڈ کر لیں اگلے دن چار دفعہ ڈرافٹ تبدیل ہوا، جب چیزیں فائنل ہوئی تو پتہ چلا کہ نیا ڈرافٹ آگیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ کل رات پونے بارہ بجے میرا پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ رہا، ایک پیرا میں تجویز تھی مگر ان کا کوئی جواب نہیں آیا، آخری کال رات پونے بارہ بجے کی تھی جس میں کہا کہ ابھی بھی کچھ ہو سکتا ہے پھر بھی کوئی جواب نہ آیا، فضل الرحمان کی پی ایم سے ملاقات ہوئی، ہماری جب بھی ان سے بات ہوتی تھی ہم کہتے تھے کہ دھرنے سے ہمیں مسئلہ نہیں ہے ہمارا ایشو صرف دہشت گردی ہے، ان کے ساتھ ہم رابطے میں تھے، پہلے بھی ہم نے ہی پی ٹی آئی سے رابطہ کیا، دھرنے کو موخر کرنے والی شرط پی پی پی کی تھی ہم نے کبھی نہیں کہا کہ دھرنا ختم کریں، آپ شوق سے دھرنا دیں ہماری توجہ انسداد دہشت گردی پر ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ کے پی کے میں صورتحال بہت خراب ہے، کچھ اضلاع میں لوگ شام وقت باہر نہیں نکل سکتے، کل الیکشن کمیشن کے آفیسر کی ڈیتھ ہوئی، سہیل آفریدی سے ہماری کافی ملاقاتیں ہوئی اور ٹاپک صرف دہشت گردی ہوتا تھا، آپ ان سے پوچھیں کہ ہم نے پلان نہیں بنایا کہ اضلاع میں پولیس میں مضبوط کریں؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں پیسوں کا مسئلہ ہے، میں نے انہیں کہا جہاں پیسوں کو مسئلہ ہے وہ ہم پورا کریں گے، مذاکرات کے دوران انہوں نے ہم سے اتفاق کیا کہ ہاں ان اضلاع میں ایمرجنسی لگنی چاہیے،  کوئی ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار نہیں تھا، ہمارے ساتھ تصاویر جاری کرنے میں ان کو مسئلہ ہوتا تھا، میں نے کبھی انہیں نہیں کہا کہ آپ تصویر بنائیں یا جاری کریں۔ محسن نقوی نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ دہشت گردی کے اوپر ہم اپنے جوانوں کی جانیں گنوائیں اور کے پی حکومت اس کو اوون نہ کرے، دہشت گردی سے کسی بھی صورت اکیلے نہیں لڑا جا سکتا، مل کر لڑنا پڑتا ہے، یہ جو مشکل فیصلہ ہم نے کیا ہے اس کا ایک بیک گراؤنڈ ہے، ہم نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح اس کو روکا جا سکے، پچھلے ڈیڑھ سال کے اندر 518 پولیس والے شہید ہوئے ہیں،  کل رات کو بھی اگر ان کی ہاں آ جاتی تو یہ صورتحال نہیں بنتی، آپ ان سے پوچھیں کہ وہ کون لوگ تھے جو ان چیزوں کو سبوتاژ کرتے تھے؟ مجبورا ہمیں گورنر راج لگانا پڑا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل