Loading
امریکا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں سے تعلق رکھنے والے چھ سینیٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے روس سے ڈیزل خریدنے کا منصوبہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سینیٹرز کا کہنا ہے کہ یوکرین کے خلاف روسی جنگ جاری رہنے کے دوران ماسکو سے ایندھن کی خریداری روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو مالی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سینیٹرز نے اتوار کو جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ انتظامیہ نے اس منصوبے کے بارے میں کانگریس سے مشاورت نہیں کی اور نہ ہی فیصلے کے جواز سے متعلق مطلوبہ وضاحت پیش کی۔ ان کے مطابق روس سے توانائی کی درآمدات پر پابندی سے متعلق امریکی قانون بھی اس معاملے میں اہم ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کو سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ روسی صدر پیوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ طے پایا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق روس فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زیادہ ڈیزل امریکی اور عالمی منڈی کو فراہم کرے گا، نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور اس کے بعد 10 لاکھ ٹن فراہم کیے جائیں گے۔ ان کے بیان کے مطابق بعد کے مرحلے میں مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل بھی مختصر مدت میں فراہم کیا جائے گا۔ ان اعداد و شمار اور منصوبے کی تفصیلات کا حوالہ ٹرمپ کے اعلان سے دیا گیا ہے۔
مشترکہ بیان پر دستخط کرنے والے چار ریپبلکن سینیٹرز سوزن کولنز، لیزا مرکاؤسکی، تھوم ٹلس اور جان کرٹس ہیں، جبکہ دو ڈیموکریٹ سینیٹرز جین شاہین اور رچرڈ بلومینتھل شامل ہیں۔
ریپبلکن سینیٹر تھوم ٹلس نے این بی سی کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں کہا کہ اگر انتظامیہ ڈیزل خریداری کا منصوبہ آگے بڑھاتی ہے تو اس پر سوال اٹھ سکتا ہے کہ آیا صدر قانون کی پابندی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین میں جارحیت کرنے والا ملک ہے اور جنگ ختم کرنے کے لیے اسے زیر قبضہ علاقوں سے نکلنا چاہیے۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس نے حال ہی میں روسی تیل اور قدرتی گیس کے بڑے درآمد کنندگان پر بھاری محصولات عائد کرنے سے متعلق قانون سازی کی تھی۔ اس اقدام کا مقصد روس کو توانائی کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی محدود کرنا بتایا گیا تھا، جسے ماسکو یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔
دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر جان باراسو نے کہا کہ صدر ٹرمپ توانائی کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور انہیں مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بھی روس سے متعلق پابندیوں کے قانون پر عمل درآمد کی حمایت کی اور کہا کہ پابندیاں پیوٹن پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں امریکا میں ڈیزل کی بلند قیمتوں کا ذمہ دار یوکرین کو قرار دیا ہے، جبکہ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکا کی قیادت میں جاری جنگ نے بھی عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل