Loading
راولپنڈی میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے خاتمے کے لیے دادوچھا ڈیم منصوبہ اہمیت اختیار کرگیا ہے، تاہم 24 سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ تاخیر کا شکار رہا۔
ڈیم کی تکمیل کے لیے 31 دسمبر 2026 کی ڈیڈلائن مقرر ہے، جبکہ شہر کو روزانہ 21 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے۔
شہر میں پانی کی یومیہ طلب 72 ملین گیلن ہے، جبکہ دستیاب فراہمی صرف 51 ملین گیلن تک محدود ہے۔ دادوچھا ڈیم سے روزانہ 35 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں سے واسا کو شہر کے لیے 15 ملین گیلن پانی مل سکے گا۔ باقی 20 ملین گیلن پانی کنٹونمنٹ بورڈ اور ڈی ایچ اے کے درمیان تقسیم ہونا ہے۔
کنٹونمنٹ بورڈ اور ڈی ایچ اے کے درمیان پانی کی تقسیم کا فارمولا تاحال طے نہیں ہوسکا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق پانی کی تقسیم پر اتفاق کے بعد نیٹ ورک، ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کے منصوبوں پر پیش رفت ہوگی۔ دادوچھا ڈیم سے پانی کی فراہمی کے لیے نیٹ ورک، ٹریٹمنٹ اور فلٹریشن پلانٹ کی تعمیر پر مجموعی طور پر 36 ارب روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔
دادوچھا ڈیم منصوبے کی ابتدائی لاگت 6 ارب 49 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی، جو بڑھ کر تقریباً 15 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ سیاسی تبدیلیوں، اراضی کے تنازعات اور عدالتی کارروائیوں کو منصوبے میں تاخیر کی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
ڈیم پر تعمیراتی کام ستمبر 2024 میں شروع کیا گیا، جبکہ اس کی تکمیل کے لیے دسمبر 2026 کی ڈیڈلائن مقرر ہے۔
کمشنر راولپنڈی سلمان غنی نے دادوچھا ڈیم کا دورہ کیا، جہاں انہیں تعمیراتی کاموں پر بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق منصوبے پر مجموعی طور پر 92 فیصد پیش رفت ہوچکی ہے۔ ڈیم پر اسٹون پچنگ، اسپل وے، رٹیننگ وال، پل اور پانی کے اخراج و فراہمی سے متعلق انٹیک اور آؤٹ لیٹ اسٹرکچرز کی تعمیر کا کام جاری ہے۔
کمشنر راولپنڈی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دادوچھا ڈیم کے باقی ماندہ تعمیراتی کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ ڈیم میں 60 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی، جبکہ اس کی اونچائی 123 فٹ اور لمبائی 737 فٹ ہے۔ منصوبے کا کیچمنٹ ایریا 129 مربع میل پر مشتمل ہے۔
دادوچھا ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے کے باوجود راولپنڈی کو پانی کی فراہمی کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ اور ٹرانسمیشن لائن کی تکمیل بھی ضروری ہوگی۔
منصوبے کے تعمیراتی کام میں 92 فیصد پیش رفت کے باوجود پانی کی تقسیم کا فارمولا اور فراہمی کا نظام اہم مراحل ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تمام ضروری کام مکمل کرکے دسمبر 2026 تک راولپنڈی کو ڈیم سے پانی فراہم کرنا ممکن ہوسکے گا؟
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل