Tuesday, October 13, 2026
 

لائبہ کا خواب اور ہمارا نظام تعلیم

 



کبھی کبھی ایک بچی کی کہانی پورے نظام کی کہانی بن جاتی ہے۔ لائبہ کی کہانی بھی ایسی ہی ہے۔ ایک ذہین بچی، فزکس میں گولڈ میڈل، اور ہارورڈ میں پڑھنے کا خواب۔ یہ کسی فلم کا منظر نہیں، ہمارے اپنے معاشرے کی ایک بیٹی کی داستان ہے، جس کا انجام ہم سب کے لیے ایک سوال چھوڑ گیا ہے۔ وہ سوال یہ نہیں کہ اسے کس نے دھوکا دیا، بلکہ یہ ہے کہ جب وہ دھوکے کے راستے پر چل رہی تھی تو اسے روکنے والا، سمجھانے والا اور صحیح راستہ دکھانے والا کوئی کیوں نہیں تھا؟ ذرا تصور کیجیے۔ ایک عام سی پاکستانی بچی دن رات محنت کر کے فزکس میں گولڈ میڈل لیتی ہے۔ جس دن اس کے گلے میں میڈل ڈالا گیا ہوگا، اس کے ماں باپ کی آنکھیں خوشی سے کیسی چمکی ہوں گی۔ گھر میں مٹھائی بٹی ہوگی، رشتے داروں کے فون آئے ہوں گے۔ اور اس دن لائبہ نے شاید پہلی بار اونچی آواز میں اپنا خواب بتایا ہوگا ’’میں ہارورڈ (Harvard University) میں پڑھوں گی۔‘‘ پھر وہ خواب اسے ایک ایسے شخص تک لے گیا جو خود کو ایجوکیشن کنسلٹنٹ کہتا تھا۔ اس نے لائبہ کو وہی سنایا جو وہ سننا چاہتی تھی: داخلہ ہو جائے گا، بس تھوڑے پیسے اور لگیں گے، بس یہ ایک مرحلہ اور رہ گیا ہے۔ اور لائبہ، جو ہر امتحان میں سب سے آگے رہی تھی، اس امتحان میں بالکل اکیلی تھی۔ گھر والوں کا پلاٹ بک گیا، ماں کے زیور بک گئے۔ ہر قسط کے ساتھ خواب تھوڑا اور قریب لگتا تھا، اور حقیقت میں تھوڑا اور دور چلا جاتا تھا۔ جس شخص نے یہ کیا، وہ مجرم ہے اور اسے سزا ملنی چاہیے۔ مگر میں آج اپنے آپ سے، اپنے اساتذہ سے اور اپنی جامعات سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ ہم نے اس بچی کو گولڈ میڈل تو دے دیا، کیا ہم اسے اتنا بھی نہ بتا سکے کہ ہارورڈ میں داخلے کے لیے کسی ایجنٹ کی ضرورت ہی نہیں ہوتی؟ کہ یونیورسٹی اپنی ویب سائٹ پر سب کچھ خود لکھ دیتی ہے؟ کہ اسکالرشپ پیسوں سے نہیں، قابلیت سے ملتی ہے؟ کہ جو آدمی داخلے کی گارنٹی دے، وہی سب سے بڑا جھوٹا ہوتا ہے؟ یہ باتیں کوئی راز نہیں تھیں۔ بس کسی نے بتائی نہیں۔ ہم ہر سال ہزاروں ڈگریاں بانٹتے ہیں۔ کانووکیشن میں تالیاں بجتی ہیں، تصویریں بنتی ہیں، تقریریں ہوتی ہیں۔ پھر بچے کو گیٹ سے باہر نکال کر ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام ختم ہوگیا۔ کہنے کو کئی یونیورسٹیوں میں کیریئر کاؤنسلنگ کے دفتر موجود ہیں، لیکن ایمانداری سے بتائیے، کتنے طلبا کو ان دفتروں کا پتا ہے؟ اور جو پتا لگا کر وہاں پہنچ بھی جائیں، کیا وہاں کوئی ایسا شخص بیٹھا ہوتا ہے جو کسی ذہین بچی کا ہاتھ پکڑ کر کہے ’’بیٹا، یہ رہا راستہ۔ کسی کو ایک روپیہ مت دینا۔‘‘ دنیا کی بہت سی جامعات میں یہ کام تعلیم کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ وہاں پہلے سال سے بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ صحیح معلومات کہاں سے ملتی ہیں، ذاتی بیان کیسے لکھا جاتا ہے، سفارشی خط کس سے لیا جاتا ہے، آخری تاریخیں کیسے یاد رکھی جاتی ہیں، اور کسی آفر کو سچ مان لینے سے پہلے کیسے پرکھا جاتا ہے۔ وہاں بچہ خود اپنا راستہ ڈھونڈنا سیکھتا ہے۔ ہمارے ہاں وہ راستہ ڈھونڈنے نکلتا ہے تو اکثر کسی شکاری کے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ اسی لیے آج میں اس تحریر کے ذریعے ہر اس بچے اور بچی سے بات کرنا چاہتا ہوں جس کی آنکھوں میں باہر پڑھنے کا خواب ہے۔ جس یونیورسٹی میں جانا چاہتے ہیں، اس کی اپنی ویب سائٹ کھولیے۔ داخلے کی شرائط، فیس، آخری تاریخ، سب وہیں لکھا ہوتا ہے۔ کچھ سمجھ نہ آئے تو ایڈمیشن آفس کو سیدھا ای میل کر دیجیے۔ وہ جواب دیتے ہیں، اور بالکل مفت دیتے ہیں۔ رہنمائی کے لیے بھی آپ کو کسی ایجنٹ کی ضرورت نہیں۔ امریکا کے لیے یو ایس ای ایف پی اور ایجوکیشن یو ایس اے موجود ہیں، جن کے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں دفاتر ہیں۔ برطانیہ کے لیے شیوننگ اسکالرشپ اور برٹش کونسل ہیں۔ جرمنی کے لیے ڈاڈ ، جرمن اکیڈمک ایکسچینج سروس، یورپ کے لیے ایراسمس منڈس اور ترکیہ کے لیے ترکیے بورسلاری ہیں۔ اپنے ملک میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اسکالرشپس ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی آپ سے معلومات کے پیسے نہیں لیتا۔ اور ایک بات دل پر لکھ لیجیے، ہارورڈ جیسی کئی بڑی یونیورسٹیاں غریب مگر قابل بچوں کا خرچ خود اٹھاتی ہیں۔ ضرورت ہو تو درخواست کی فیس تک معاف کر دیتی ہیں۔ آپ کے خواب کی قیمت آپ کے ماں باپ کا گھر نہیں ہے۔ اب ذرا دھوکے باز کو پہچاننا بھی سیکھ لیجیے۔ وہ میٹھا بولے گا اور یقین دلائے گا کہ داخلہ اور ویزا سو فیصد پکا ہے۔ کہے گا کہ اندر میرے جاننے والے ہیں۔ پہلے تھوڑے پیسے مانگے گا، پھر کچھ اور، پھر کچھ اور۔ پیسے یونیورسٹی کے بجائے اپنے اکاؤنٹ میں منگوائے گا۔ ایڈمیشن لیٹر یونیورسٹی کے آفیشل ای میل سے نہیں بلکہ واٹس ایپ یا ذاتی ای میل پر بھیجے گا۔ اور سب سے بڑی نشانی یہ کہ وہ کہے گا، جلدی فیصلہ کرو اور کسی کو بتانا مت۔ جس دن کوئی آپ سے یہ کہے، سمجھ جائیے کہ آپ کے خواب کا سودا ہو رہا ہے۔ کوئی بھی آفر لیٹر ملے تو یونیورسٹی کو خود ای میل کرکے پوچھیے کہ کیا یہ اصلی ہے۔ فیس صرف اور صرف یونیورسٹی کے سرکاری پورٹل یا اکاؤنٹ میں جمع کروائیے۔ اور خدا کے لیے کوئی بڑا فیصلہ اکیلے مت کیجیے۔ اپنے کسی استاد سے بات کیجیے، ماں باپ کو ساتھ بٹھائیے، کسی ایسے شخص سے پوچھیے جو باہر پڑھ کر آیا ہو۔ دھوکے باز ہمیشہ اسی تنہائی کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ اور اگر کبھی دھوکا ہو بھی جائے تو یاد رکھیے کہ قصور آپ کا نہیں، اس کا ہے جس نے دھوکا دیا۔ سارے ثبوت سنبھال کر رکھیے اور فوراً نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں شکایت درج کروائیے، شکایت آن لائن (complaint.nccia.gov.pk) یا ہیلپ لائن 1799 پر بھی درج کروائی جا سکتی ہے۔ اس میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں۔ اور اگر دل پر بوجھ اتنا بھاری ہو جائے کہ سانس لینا مشکل لگے تو اسے اکیلے مت اٹھائیے۔ کسی اپنے کو بتائیے، کسی ماہر سے بات کیجیے۔ پیسہ دوبارہ کمایا جاسکتا ہے، داخلہ اگلے سال بھی ہو سکتا ہے، خواب نئے سرے سے جوڑا جا سکتا ہے۔ مگر آپ کی زندگی، آپ کا وجود، اپنے گھر والوں کے لیے کسی بھی ڈگری سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ لیکن یہ سارا بوجھ صرف بچوں پر ڈال دینا بھی انصاف نہیں۔ اصل ذمے داری ہماری ہے، اداروں کی ہے۔ ہر یونیورسٹی اور ہر کالج میں ایک ایسا زندہ اور فعال رہنمائی کا مرکز ہونا چاہیے جہاں واقعی کوالیفائیڈ والے لوگ بیٹھے ہوں، صرف نام کی تختی نہیں۔ آخری سال کے طلبا کےلیے باہر داخلوں اور اسکالرشپس پر ورکشاپس لازمی ہونی چاہئیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ایک ایسا آن لائن نظام اور ہیلپ لائن بنانی چاہیے جہاں کوئی بھی بچہ کسی آفر یا کسی ایجنٹ کی تصدیق کر سکے۔ ایجوکیشن کنسلٹنٹس کی رجسٹریشن لازمی ہو اور ان کی نگرانی ہو۔ جو بچوں کے خواب بیچیں، انہیں ایسی سزا ملے کہ دوسروں کو عبرت ہو۔ اور دنیا بھر میں پھیلے ہمارے کامیاب پاکستانی اسکالرز کو رہنما بنا کر اپنی جامعات سے جوڑا جائے، تاکہ وہ بچوں کی مناسب رہنمائی کریں۔ لائبہ اب واپس نہیں آئے گی۔ اس کے ماں باپ کا گھر ہمیشہ کے لیے ادھورا رہ گیا ہے، اور کوئی تحریر، کوئی تعزیت، کوئی قانون یہ خلا پُر نہیں کر سکتا۔ مگر اس کا خواب ابھی زندہ ہے۔ وہ ان ہزاروں بچوں کی آنکھوں میں زندہ ہے جو آج بھی رات دیر تک جاگ کر پڑھتے ہیں اور کسی بڑی یونیورسٹی کا نام لیتے ہوئے مسکرا دیتے ہیں۔ ان بچوں کو بچانا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم نے اب بھی کچھ نہ بدلا تو ہم یونہی ڈگریاں اور میڈل بانٹتے رہیں گے، بچے یونہی لٹتے رہیں گے، اور ہم ہر سانحے کے بعد دو چار دن افسوس کر کے، چند پوسٹیں شیئر کر کے، اگلے سانحے کا انتظار کرنے لگیں گے۔ لائبہ کی کہانی یہاں ختم ہوگئی۔ ہماری ذمے داری یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل