Loading
پی ٹی آئی کے سینیٹر و قانون داں علی ظفر نے کہا ہے کہ کون سا قانون آپ کو اجازت دیتا ہے کہ دہشت گردی کی آڑ میں آپ ایک صوبے پر قبضہ کرلیں؟ ایک صوبائی حکومت کو ہٹادیں، ایک منتخب وزیراعلیٰ اور کابینہ کو گرفتار کرلیں۔
سینیٹ کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کو بتانا چاہتا ہوں کس طرح آئین کا شکار کیا گیا ہے، حکومت نے وزیراعلی، اسپیکر اور دیگر وزراء کو گرفتار کرلیا یہ آئین شکنی ہے، دہشت گردی کو شکست دینے کے معاملے پر ہم سب اکٹھے ہیں، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے آئین کو ردی کی ٹوکر میں نہ پھینک دیں، کون سا قانون آپ کو اجازت دیتا ہے کہ دہشت گردی کی مد میں آپ ایک صوبے پر قبضہ کرلیں؟ آئین کی کون سی شق کہتی ہے کہ دہشت گردی کی مد میں ایک صوبائی حکومت کو ہٹا دیں؟ آئین اجازت نہیں دیتا گورنر راج یا ایمرجنسی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کریں اگر بیرونی حملہ ہو تو ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے، آئین کہتا ہے اندرونی خلفشار ہو تو صوبائی اسمبلی قرارداد پاس کرے تو ایمرجنسی لگ سکتی ہے، آرٹیکل 232 اور 234 حکومت اپنی من مانی سے نہیں لگا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جب کہتی ہے صوبائی حکومت دہشت گرد ہے یا ان کی سہولت کار ہے تو اس کے ثبوت ایوان میں بھیجیں، ان سے کہیں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی سمری ایوان میں پیش کی جائے، محسن نقوی نے مذاکرات کے بارے میں جو بات کی وہ حقیقت سے متصادم ہے، خان صاحب سے ملاقات نہیں ہوپارہی تھی، خیبرپختونخوا میں لوگ ان کی بات نہیں مان رہے تھے لگتا ہے مذاکرات کو پہلے سے ہی فیل کرنے کا ارادہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایمرجنسی لگانے کی بہت بڑی غلطی کردی ہے، کے پی کے میں حکومت چل رہی تھی، آئین کی کونسی شق میں لکھا ہے کہ آپ وزیراعلی کوہٹا کر کابینہ کو ختم کرسکتے ہیں آئین کی کونسی شق میں لکھا ہے آپ ایک وزیراعلی یا کابینہ کو جیل میں ڈال دیں آپ حکومت کو ہٹا سکتے ہیں لیکن تحریک کو ختم نہیں کرسکتے آپ عوام کی سوچ کو پابند نہیں کرسکتے آپ نہ صرف ہمیں نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ اس ملک کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں آپ ریاست کو کمزور کررہے ہیں اس جنگ میں آئین اور جمہوریت کو ہارنے نہیں دیں گے حکومت کو درخواست کرتا ہوں اس عمل کو واپس کریں اور ہمارے ساتھ بیٹھیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل