Loading
ملک کے تجارتی دارالحکومت کراچی میں بھی نجی جیلوں کا وجود پایا جاتا ہے۔ اخبارات میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک عرض گزار نے کراچی ساؤتھ کے مجسٹریٹ کی عدالت میں یہ درخواست کی کہ اس کے ایک عزیز شیر زمان کو پولیس اہلکاروں کی جانب سے اغواء کرکے کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔ پولیس اہلکار شیر زمان کی رہائی کے لیے حسبِ روایت بخشش مانگ رہے ہیں۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ نے کراچی کے نبی بخش تھانہ کی حدود میں سول ڈیفنس کمپاؤنڈ میں چھاپہ مارا تو پتہ چلا کہ اس کمپاؤنڈ میں 30 افراد کو غیر قانونی طور پر جس میں ایک خاتون سمیرا بھی شامل ہیں کو برآمد کیا گیا جو کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ تمام زیر حراست افراد نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کو بتایا کہ انھیں مختلف مقامات سے دو دن قبل اٹھایا گیا ہے، یہ کمپاؤنڈ کبھی بھی پولیس تھانہ کا حصہ نہیں رہا۔ متعلقہ مجسٹریٹ نے اس کمپاؤنڈ میں موجود اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی تو گرفتار افراد کا کوئی ریکارڈ نہیں پیش کیا گیا۔
بازیاب ہونے والے بعض افراد کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ کراچی ڈسٹرکٹ ساؤتھ کی ایڈیشنل سیشن جج فرح صنوبر ناز کی عدالت میں ایک وکیل مسعود آفریدی نے جنھوں نے بازیاب ہونے والے شخص شیر زمان کی والدہ کی جانب سے حبس بے جا کی درخواست دائر کی تھی، ایک نئی درخواست میں استدعا کی کہ ان کے مؤکل مزید کارروائی کے خواہاں نہیں ہیں۔ اس بناء پر وہ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، یوں 30 افراد کی بازیابی کا معاملہ اچانک داخل دفتر ہوگیا۔
پولیس ایکٹ کے تحت کوئی بھی عمارت جس کو تھانہ قرار دیا جائے اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے اور اس قانون کے تحت تھانے کے علاوہ کسی کو عمارت میں خواہ وہ سرکاری عمارت ہو کسی شہری کو نظربند نہیں کیا جاسکتا مگر قانون کی اتنی سنگین خلاف ورزی کے باوجود اعلیٰ سطح پر اس واقعے کا نوٹس تک نہیں لیا، یوں تو پورے ملک میں پولیس کی چیرہ دستی کے واقعات ذرائع ابلاغ کی زینت بنتے رہتے ہیں مگر عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بڑے شہروں میں پولیس اہلکار قانون کا کچھ احترام کرتے ہیں مگر کراچی اور اندرون سندھ میں صورتحال مختلف ہے۔
کراچی میں مختصر عرصے کی اغواء کی وارداتیں (Shor term kidnapping)بھی بڑھ گئی ہیں۔ گزشتہ ماہ گلستانِ جوہر سے ایک شہری کو جو کرپٹو ٹریڈر تھا ،اغواء کیا گیا اور متاثرہ شہری کے موبائل سے لاکھوں روپے کی کرپٹو کرنسی چوری کی گئی اور متاثرہ شخص کو سنسان جگہ پر چھوڑ دیا گیا۔ اس متاثرہ شخص کی خبر اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی۔
پولیس نے حسب روایت مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی اور پھر متاثرہ شہری کو ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی گئی مگر عملاً کچھ نہیں ہوا ۔ اس کے علاوہ بینک کے ایک ملازم بلال ظفر کو مختصر عرصہ کے لیے اغواء کیا گیا۔ اس مقدمہ میں مغوی کے بہنوئی کے علاوہ پولیس کے اہلکار بھی ملوث پائے گئے تھے۔ مغوی کی جان تاوان ادا کرنے کے بعد چھوٹی۔ پولیس حکام نے اس کیس میں خاصی دلچسپی لی، یوں کچھ ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
کرائم کی بیٹ کور کرنے والے ایک رپورٹر کا کہنا ہے کہ مختصر دورانیہ کے اغواء کی وارداتوں کا شکار ہونے والے بہت کم افراد پولیس کو رپورٹ کرتے ہیں، اگر ان افراد کے ساتھ ان کی گھر کی خواتین بھی سفر میں شامل ہوں تو پھر یہ متاثرہ افراد پولیس کو اطلاع دینے کے بجائے خاموشی سے نقصان برداشت کرلیتے ہیں۔ جرائم اور ایسے جرائم جن کا تعلق پولیس کے محکمہ سے ہوتا ہے کی بہت سی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ سندھ میں یہ بات عام ہوگئی ہے کہ جو پولیس افسران ’’سسٹم‘‘ کا حصہ ہوتے ہیں ۔
اب یہ باتیں بھی عام ہیں کہ تھانے نیلام ہوتے ہیں، یوں پولیس والے خود جرائم میں ملوث ہوتے ہیں اور براہ راست یا بالواسطہ طور پر مجرموں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ پولیس حکام کا یہ دعویٰ ہے کہ پولیس کے محکمہ کا اپنا ایک احتساب کا نظام ہے۔ اب کوئی بھی جونیئر افسر گریجویشن سے کم بھرتی نہیں ہوتا اور ایل ایل بی کی ڈگری اضافی قابلیت سمجھی جاتی ہے۔ اس طرح خواتین پولیس افسران کی بھی خاصی بڑھ گئی ہے۔ اب خواتین سپاہی سے لے کر اے ایس آئی اور براہِ راست اے ایس پی بھی بھرتی ہوتے ہیں مگر محکمہ پولیس میں کرپشن کا کلچر اتنا زیادہ مضبوط ہے کہ خواتین پولیس اہلکار تک اس کلچر کا حصہ بن جاتی ہیں۔
اگرچہ آزادی کے بعد سے ہر حکومت نے تھانہ کلچر میں تبدیلی کا نعرہ لگایا مگر عملی طور پر کچھ نہ ہوسکا۔ اب بھی پولیس کی تفتیش کا سارا انحصار ملزمان پر تشدد کرکے ان سے اقرارِ جرم کروانے پر ہوتا ہے۔ اب کسی خطرناک جرم کے ملزمان کی گرفتاری کی کوششوں کا جب اعلیٰ پولیس افسر ذکر کرتے ہیں تو مشتبہ ملزمان کے والدین، اہلیہ یا بھائیوں کی گرفتاری کو ایک کارنامہ قرار دیتے ہیں جب کہ حقیقتاً ملزمان کے رشتہ داروں کا جرم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر اس صورتحال میں پولیس والوں کے لیے رشوت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ پولیس افسران کے مطابق ان جرائم کی تفتیش کے لیے حکومت بہت کم فنڈز فراہم کرتی ہے۔ اسی بناء پر پولیس والوں کو خود انحصاری کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں جہاں نچلی سطح تک اختیارات کا بلدیاتی نظام قائم ہوا تھا، اس کے ساتھ ہی پولیس ایکٹ 2002 بھی نافذ کیا گیا تھا۔ سندھ میں اس سے پہلے سندھ پولیس ایکٹ 1861 نافذ تھا۔ پولیس ایکٹ 2002 میں پہلی دفعہ پولیس کے نظام میں سیفٹی کمیشن کا تصور آیا تھا۔ یہ کمیشن ضلع کی سطح سے لے کر صوبے کی سطح تک قائم ہوئے تھے۔
ان کمیشن میں سول سوسائٹی، وکلاء، ریٹائرڈ ججوں اور منتخب نمائندوں کو نمائندگی دی گئی تھی۔ یوں پہلی دفعہ پولیس کے ڈھانچہ میں عوامی احتساب کا تصور سامنے آیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی پولیس ایکٹ 2002 کو منسوخ کردیا اور انگریز دور کا پولیس ایکٹ 1861 نافذ ہوا۔ انگریز سرکار نے یہ قانون ہندوستانی شہریوں کو غلام بنانے کے لیے بنایا تھا۔ اس قانون میں 2019 میں ترمیم کی گئی مگر پولیس کے پورے نظام میں عوامی احتساب کا تصور نہیں ہے۔ جب تک مکمل طور پر پولیس کا ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوگا پولیس اہلکاروں کے جرائم میں ملوث ہونے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہی وقت ہے کہ ہر شہر میں میٹروپولیٹن پولیس قائم کی جائے اور پولیس کے پورے ڈھانچہ کی تنظیم نو کی جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل