Wednesday, October 14, 2026
 

حوثی جنگ میں آپکی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں؛ یمن نے چین کے سامنے معاملہ اُٹھا دیا

 



یمنی حکومت نے حوثی باغیوں کی جانب سے مبینہ طور پر چینی ساختہ ٹیکنالوجی اور آلات کو ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کرنے کا معاملہ چین کے ساتھ اٹھایا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یمنی وزیر خارجہ افراح الزوبہ نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسی دوہرے استعمال کی حامل مصنوعات سے متعلق بات چیت ہوئی ہے جنہیں شہری مقاصد کے علاوہ فوجی سرگرمیوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حوثیوں کے ہتھیاروں کی تیاری میں چینی ٹیکنالوجی کے استعمال پر چینی حکام نے تحقیقات کے لیے معلومات فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یمنی وزیر خارجہ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ چین نہ صرف ہمارا ایک اچھا شراکت دار ہے بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت بھی کرتا ہے۔ اس سے قبل تنازعات میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا سراغ لگانے والے ادارے کانفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ حوثی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جدید بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حوثی مبینہ طور پر ایران سے منسلک سپلائی نیٹ ورکس سے آگے بڑھ کر دوسرے ذرائع سے بھی پرزے حاصل کررہے ہیں۔ بعض میزائلوں کے مخصوص پرزوں کے ساتھ ایسی شپنگ دستاویزات ملنے کا دعویٰ کیا گیا جن میں چینی سپلائر کا نام درج تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔ چین کی جانب سے ان مخصوص دعوؤں پر باضابطہ ردعمل کی تفصیلات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ یمن میں حکومت اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع مزید شدت اختیار کررہا ہے۔ سعودی عرب بھی یمنی حکومت کا اہم اتحادی ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل