Loading
امریکا کی معروف جامعات کارنیل اور شکاگو میں جنسی زیادتی کے الزامات نے طلبا کے تحفظ، انتظامیہ کی ذمہ داری اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق شکاگو یونیورسٹی میں 11 اکتوبر کو ایک خاتون کو جامعہ سے باہر طلبا کی ایک برادری کی تقریب میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
جس پر یونیورسٹی کا مؤقف ہے کہ متاثرہ خاتون اور تحقیقات میں دلچسپی رکھنے والا ملزم شخص کا جامعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور پولیس تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے جب کہ یونی ورسٹی کی ادارہ جاتی تحقیقات بھی مکمل نہیں ہوئی۔
دوسری جانب کارنیل یونیورسٹی کی ایک سابق طالبہ نے الزام لگایا کہ اکتوبر 2024 میں ایک برادری کے گھر میں اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔
خاتون نے اس واقعے پر می ٹو مہم سے متاثر ہوکر دو سال بعد یعنی ستمبر 2026 میں دیوانی مقدمہ دائر کیا جس سے یہ معاملہ دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا۔
اس واقعے پر کارنیل یونیورسٹی نے بتایا کہ محکمہ جاتی تحقیقات کے بعد بعض طلبا کو جامعہ سے خارج اور بعض کو معطل کیا گیا ہے جبکہ طلبا برادریوں کی تقریبات پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔
جامعہ کے سربراہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انھیں 2024 میں اس شکایت کا علم تھا تاہم انھوں نے متاثرہ طالبہ سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا۔ معاملے کی فوجداری تحقیقات بھی دوبارہ شروع کردی گئی۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کسی بھی جامعہ کی ساکھ کئی دہائیوں میں بنتی ہے لیکن جنسی زیادتی کے الزامات پر انتظامیہ کا ردعمل چند دنوں میں اس ساکھ کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔
جامعہ سے باہر پیش آنے والے واقعے کو محض اس بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ متعلقہ افراد ادارے سے وابستہ نہیں تھے۔
اگرچہ جامعات ہر نجی تقریب کو کنٹرول نہیں کرسکتیں لیکن انہیں طلبا کے تحفظ، شکایات کی منصفانہ تحقیقات اور متاثرین کی معاونت کے مؤثر انتظامات یقینی بنانا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکی قانون کے تحت وفاقی مالی معاونت حاصل کرنے والے تعلیمی اداروں پر جنسی ہراسانی سے متعلق مخصوص ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل